’امید ہے کہ تعلقات خراب نہیں ہونگے‘

روسی وزیراعظم ولادیمیر پوتن نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکہ میں مبینہ جاسوسوں کے گروہ کی گرفتاری کے واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہونگے۔
اس سے پہلے روس کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ امریکی الزامات بے بنیاد اور یہ سرد جنگ کے دور میں لے گئے ہیں۔
امریکہ نے منگل کو دس افراد کو مبینہ طور پر روس کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ان میں بعض افراد روسی شہری بیان کیے جاتے ہیں۔
روسی وزیراعظم ولادیمیر پوتن نے بھی ان گرفتاریوں کی مذمت کی تھی تاہم انہوں نے روس کے دورے پر آئے سابقِ امریکی صدر بل کلنٹن سے ملاقات میں کہا کہ وہ اس واقعے کو دونوں ملکوں کے بہتر ہوتے تعلقات میں رکاوٹ نہیں سمجھتے۔
انھوں نے کہا کہ ’ آپ نے پولیس کو خود کارروائی کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور وہ لوگوں کو جیلوں میں بھیج رہے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’ ہمیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات جو حالیہ سالوں میں بہتر ہونا شروع ہوئے ہیں وہ قائم رہیں گے، اور جو لوگ بہتر تعلقات کی قدر جانتے ہیں وہ اس کو سمجھیں گے۔‘

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا ہے کہ روس کے ساتھ تعلقات کی بہتری کا عمل جاری رہے گا۔ ترجمان کے مطابق صدر اوباما گرفتاریوں کے متعلق جانتے تھے اور انہیں متعدد بار آگاہ کیا گیا تھا۔‘
پیر کو گرفتار کیے گئے دس مبینہ جاسوسوں میں سے پانچ کو نیویارک میں مین ہیٹن کی فیڈرل کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔
عدالت میں پیش کی جانے والی دستاویز کے مطابق مبینہ طور پر ان جاسوسوں کو جوہری ہتھیاروں، اسلحے کے کنڑول کی پوزیشن، ایران، وائٹ ہاوس میں افواہیں، سی آئی اے اور سیاسی جماعتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا کہا جاتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گرفتار ہونے والے مبینہ جاسوسوں میں بعض سنہ انیس سو نوے سے امریکہ میں قیام پذیر ہیں۔ حکام کے مطابق ان افراد کو پالیسی سازی کے عمل میں داخل ہونے کے لیے روس کی خفیہ ایجنسی نے تربیت فراہم کی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ جاسوسوں کو کہا گیا تھا کہ امریکی حکام کے دوست بن کر رہیں اور مختلف ذرائع سے روسی حکومت کے لوگوں کو معلومات فراہم کریں۔
گیارواں جاسوس روپوش ہو گیا تھا جسے بعد میں قبرص سے گرفتار کیا گیا تھا۔



















