’معافی نہ مانگی تو سفارتی تعلقات ختم‘

اس سال مئی میں امدادی سامان غزہ لے جانے والے جہاز پر اسرائیلی کمانڈوز کی کارروائی کے بعد جس میں نو ترک شہری ہلاک ہوگئے تھے، ترکی نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کی دھمکی دی ہے۔
ترکی کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ معاملات صرف اسی صورت میں ٹھیک ہو سکتے ہیں کہ یا اسرائیل اپنے کیے پر معافی مانگے یا اس حملے پر ہونے والی بین الاقوامی کارروائی کے نتائج تسلیم کرے۔
اسرائیل کی حکومت نے (ترکی کے اس مطالبے کے جواب میں) کہا ہے کہ اسے معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور نتیجتاً نو ترک شہریوں کی ہلاکت کے بعد ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات گھٹا دیے تھے۔
ترکی نے جو مئی کے واقعے سے قبل مسلم دنیا میں اسرائیل کا سب سے بڑا حلیف رہا ہے، اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل معافی مانگے، عالمی انکوائری ماننے پر رضا مندی کا اعلان کرے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ ادا کرے۔

تاہم ترک وزیرِ خارجہ نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اسرائیل کو یا معافی مانگنی ہوگی یا پھر اسے بین الاقوامی انکوائری کے نتائج تسلیم کرنے ہوں گے ورنہ ’ترکی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لے گا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب اسرائیل کے کسی بھی فوجی جہاز کو ترک فضائی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔اس سے قبل ترکی نے صرف کچھ فوجی جہاز کو اپنی فضائی حددود سے گزرنے کی اجازت دے رکھی تھی۔
استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ترکی، اسرائیل کی جانب اپنا موقف قدرے سخت کر رہا ہے حالانکہ صرف پانچ روز قبل اسرائیل اور ترک وزراء کے درمیان سوٹزرلینڈ میں ایک خفیہ ملاقات بھی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے : جب آپ معافی مانگنے کا کہہ رہے ہوں تو پھر آپ الٹی میٹم یا دھمکیاں نہیں دیتے۔‘
اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تھی۔



















