’منصوبہ کھلاڑیوں کو مارنے کا نہیں تھا‘

دمشق میں تہتر برس کی عمر میں وفات پانے والے محمد عودہ 1972 میں ہونے والی میونخ اولمپکس میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر حملے کے منصوبہ ساز تھے۔ وہ ایک طویل عرصے سے گردوں کے مرض میں مبتلا تھے۔
میونخ اولمپکس کے دوران محمد عودہ کے ’سیاہ ستمبر‘ گروپ کے فلسطینی شدت پسندوں نے اسرائیلی کھلاڑیوں کی رہائش گاہ میں گھس کر دو کھلاڑیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ بعد میں جرمن پولیس کے آپریشن کے دوران دیگر نو کھلاڑی، پانچ شدت پسند اور ایک جرمن پولیس کا اہلکار ہلاک ہو گیا تھا۔
شام میں سکونت پذیر عودہ نے کبھی اس حملے کے متعلق ندامت کا اظہار نہیں کیا۔
اگرچہ انہوں نے اس سے انکار کیا تھا کہ ان کے منصوبہ میں گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو ہلاک کرنا شامل تھا لیکن انہوں نے بارہا صحافیوں کو بتایا کہ اس حملے کا فلسطینیوں کے لیے مثبت نتیجہ نکلا تھا۔
انیس سو ننانوے میں جب محمد عودہ عرف ابو داؤد نے اس حملے کی منصوبہ سازی کا اعتراف کیا تو اس پر بہت ہنگامہ ہوا۔
جرمن پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں اور عودہ کے فرانس میں داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ وہ اس سے پہلے بھی فرانس میں ایک مرتبہ پکڑے جا چکے تھے۔
اس کے بعد وہ کبھی بھی غربِ اردن کے علاقے رملہ نہیں جا سکے، جہاں ان کے چند رشتہ دار رہتے تھے۔
لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’انجام نے طریقہ کار کو درست ثابت کیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد عودہ نے 2005 میں خبر رساں ادارے اے پی کو ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’میونخ سے پہلے ہم فقط دہشت گرد تھے۔ میونخ کے بعد کم از کم لوگوں نے یہ پوچھنا شروع کیا کہ یہ دہشت گرد کون ہیں؟ یہ کیا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ کس طرح وہ اور ان کے ’سیاہ ستمبر‘ گروپ کے ساتھیوں نے روم کے ایک کیفے میں سگریٹ اور کافی پیتے ہوئے میونخ اولمپکس پر حملے کا منصوبہ بنایا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انہیں غصہ تھا کہ اولمپکس کی کمیٹی نے فلسطینیوں کی اولمپکس ٹیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
وہ کہتے تھے کہ منصوبہ یہ تھا کہ کھلاڑیوں کو یرغمال بنایا جائے اور ان کے بدلے دو سو سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کروایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کھلاڑی جائز ٹارگٹ تھے کیونکہ ان میں سے اکثر نے فوج میں تربیت حاصل کی تھی اور 1967 کی چھ روزہ جنگ میں حصہ لیا تھا۔
عودہ 1937 میں یروشلم میں پیدا ہوئے تھے۔
وہ چھ روزہ جنگ میں اردن فرار ہو گئے تھے جہاں انہوں نے پی ایل او (فلسطینی لیبریشن آرگینائزیشن) میں حصہ لیا تھا۔
1972 کے بعد وہ مشرقی یورپ چلے گئے تھے اور اس کے بعد 1975 کی خانہ جنگی تک لبنان میں رہے۔
1981 میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر حملہ کرنے والا پی ایل او کا ایک منحرف ایجنٹ تھا جو اسرائیل کے لیے کام کر رہا تھا۔ 1990 میں اسے پکڑ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے بعد میں دمشق میں سکونت اختیار کر لی۔ انہوں نے ایک مرتبہ خبر رساں ادارے اے پی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’میں آج تم سے لڑ نہیں سکتا، لیکن میرا پوتا اور اس کے پوتے یہ کر سکیں گے۔‘
عودہ کو شام کے یرموک فلسطینی پناہ گزین کیمپ کے شہیدوں کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔ ان کی تدفین میں کئی فلسطینی گروپوں اور شام کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔



















