یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی

اسرائیل کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے سرکاری اعداد و شمار اور دستاویزات کی بیناد پر انکشاف کیا ہے کہ پانچ لاکھ کے قریب اسرائیل شہری گرین لائن کے باہر یا مقبوضہ علاقوں میں آباد ہیں جن میں سے تین لاکھ اسرائیل شہری ایک سو اکیس آبادیوں اور ایک سو ’آؤٹ پوسٹس‘ یا آبادیوں میں رہتے ہیں جو کہ مقبوضہ غرب اردن کے کل رقبے کا بیالیس فیصد علاقہ بنتا ہے اور باقی ماندہ ان مقوضہ علاقوں پر جن کو یروشلم کی مونسپل حدود میں شامل کر لیا گیا تھا۔
اس رپورٹ میں انسانی حقوق کی تنظیم نے ان ہتھکنڈوں کو بھی اجاگر کیا ہے جو اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کے قیام کے لیے استعمال کیے۔ اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں بیت سلام نے صرف ان اعداد و شمار کا سہارا لیا ہے جو اٹارنی تالیہ سیسن نے اپنی رپورٹ میں پیش کئے تھے اور جو بریگیڈیئر جنرل بروچ سپیگل نے سول انتظامیہ کے نقشوں میں دیے تھے۔
بیت سلام نے کہا ہے کہ یہودی آبادیوں کا قیام ابتداء ہی سے بین الاقوامی قوانین، مقامی ضابطوں، اسرائیل حکومت کے احکامات اور قوانین کی طرف منفی اور مجرمانہ ذہن اور رویئے کا مظہر رہا ہے۔ اس ذہنیت اور رویئے سے ہی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا مسلسل اور منظم پھلاؤ ممکن ہوا ہے۔
بیت سلام کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ پر اسرائیلی حکومت نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ یہ ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو امریکی صدر براک اوباما سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔
امریکہ یہودی بستیوں کی تعمیر منجمد کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت پر زور دیتا رہے اور اسی مسئلہ پر دونوں ملک کے روائیتی تعلقات میں تلخی بھی آ گئی تھی۔
مقبوضہ علاقوں کو سرکاری اراضی قرار دے کر انھیں یہودی بستیوں کی توسیع کے لیے استعمال کرنا اسرائیل کا سب بڑا ہتھکنڈا رہا ہے۔ اس طریقہ کار کے ذریعے اسرائیل نے انیس سو نواسی اور انیس سو بانوے کے درمیان نو لاکھ دونم یا دو لاکھ ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہے۔

اسرائیل کے سٹیٹ ارٹانی آفس نے ’حکومتی اراضی‘ کا جو تصور سلطنت عثمانیہ کے دور میں پیش کیا گیا تھا اس کی اس طرح تشریح جو کہ واضح قانونی ضابطوں اور سپریم کورٹ کی لازمی فیصلوں کی نفی کرتی تھی۔ اس مسخ شدہ تشریح کے بغیر اسرائیل کے لیے ان وسیع علاقوں پر یہودی بستیوں کے تعمیر کے لیے قبضہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
بیت سلام نے کہا کہ ان علاقوں کے علاوہ فلسطینیوں کی نجی اراضی پر بھی قبضے کیے جاتے رہے۔ سول انتظامیہ کے اعداد و شمار اور فضا سے لی گئی تصاویر کے تقابلی جائزے سے پتا چلا کہ یہودی بستیوں کا اکیس فصید علاقہ جس پر تعمیرات کی گئی ہیں ایسا ہے جسے اسرائیلی حکومت خود تسلیم کرتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کو نجی جائیدادیں تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقوضہ علاقوں پر قائم بستیوں میں آباد ہونے کے لیے اسرائیلی حکومت شہریوں کو مختلف قسم کی ترغیبات اور سہولیات فراہم کرتی رہی ہے۔ غرب اردن میں قیام زیادہ تر بستیاں نیشنل پریارٹی ایئر اے میں آتی ہیں جہاں پر رہنے والوں کو بہت سے مالی فوائد دیے جاتے ہیں جن میں بہت عمدہ کوالٹی کے فلیٹس ارزاں نرخوں پر فراہم کیئے جاتے۔ ان فلیٹس کو خریدنے کے لیے آسان شرائط پر قرضے بھی دیئے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں بسنے والوں کو تعلیم میں بھی وسیع سہولیات دی جاتی ہیں۔ تعلیم، زراعت، تجارت اور دیگر شعبوں میں ملازمت کرنے والوں کو پرکشش تنخواہیں دی جاتی ہیں جن کو ٹکسوں سے چھوٹ بھی حاصل ہوتی ہے۔
بیت سلام نے کہا کہ یہ بستیاں بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
بیت سلام نے کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر فلسطینیوں کے مندرجہ ذیل انسانی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
۔ جائیداد کا حق : غرب اردن کے وسیع قطعات پر قبضہ
۔ انصاف کی فراہمی میں مساوی حقوق: دو مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے علیحدہ علیحدہ نطام واضح کرنے سے فلسطینیوں کو مساوی حقوق سے محروم کیا گیا۔ یہودی آباد کاروں کے لیے عدالتی نظام انسانی اور جمہوری حقوق پر قائم کیا گیا ہے جبکہ فلسطینیوں کے لیے جو نظام بنایا گیا ہے اس کی بنیاد فوجی عدالتی نظام ہے جو کہ ان کے حقوق سے محروم کرنے کی منظم کوشش ہے۔
۔ نقل و حمل کی آزادی: غرب اردن میں جا بجا چیک پوسٹیں اور روکاٹیں کھڑی کرنے سے فلسطینیوں کی نقل و حمل کو بھی محدود کر دی گیا۔
اسرائیل نے غرب اردن میں جو وسیع جغرفیائی تبدیلیاں کی ہیں ان سے فلسطینیوں کے ساتھ گزشتہ اٹھارہ سال سے جاری مذاکرات پر بھی منفی اثر پڑا ہے اور یہ اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے بھی روح گردانی ہے۔
فلسطنیوں علاقوں پر مسلسل قبضے سے اسرائیل کے جمہوری تشخص اور بین الاقوامی برادری میں اس کے وقار کو مجروح کیا ہے۔



















