امریکی رویہ: ’نہ کھل کر بات نہ دوستی‘

- مصنف, ارمان صابر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں پاکستانی ڈاکٹر روزینہ طفیل کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک تو نہیں برتا جاتا لیکن امریکی نہ کھل کر بات کرتے ہیں نہ دوستی کرتے ہیں۔
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت محسوس کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اثر وہاں مقیم پاکستانیوں پر بھی پڑا ہے جس سے تجارت بھی متاثر ہورہی ہے۔
امریکہ میں نائن الیون کے بعد سکیورٹی انتہائی سخت کردی گئی اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی انتظامات کو مزید محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی گذشتہ نو برس میں امریکہ میں دہشت گردی کی کوشش کے کئی واقعات بھی بے نقاب ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے تاہم امریکہ میں ہونے والے واقعات کے تانے بانے پاکستان سے مل جاتے ہیں۔ حالیہ واقعہ، پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کی گرفتاری ہے جنہیں نیویارک میں ایک کار میں بم نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ فیصل شہزاد نے بعد میں عدالت کے سامنے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا۔
امریکہ میں بسنے والے مسلمان اور خاص طور پر پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہری، فیصل شہزاد کی گرفتاری اور ایسے ہی دیگر واقعات کا اثر لیتے ہیں۔
ان ہی میں سے ایک ڈاکٹر روزینہ طفیل ہیں جنہوں نے امریکہ میں تعلیم حاصل کی اور پھر پاکستان آگئیں، تاہم وہ کچھ عرصے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے دوبارہ امریکہ گئیں اور اب میامی میں ہی ملازمت کررہی ہیں اور وہیں رہائش پذیر بھی ہیں۔
ڈاکٹر روزینہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے جو سوچتے ہیں انہیں بھی وہاں کم و بیش ویسے ہی حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے بقول ’امریکہ میں لوگ مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کو مخصوص قسم کی نظروں سے دیکھتے ہیں، اور ان کے رویے بھی بہت زیادہ مثبت نہیں ہوتے۔ چونکہ یہاں معاشرہ ایسا ہے کہ امتیازی سلوک نہیں کرسکتے لیکن پھر بھی وہ نظرانداز کرتے ہیں۔‘
شکاگو میں رہنے والے عادل خان، ڈاکٹر روزینہ طفیل کے خیالات سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ دوہزار ایک میں ہوئے ٹوئن ٹاورز پر حملوں کے بعد سے حالات میں تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن اس سے اُن کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوسٹن میں ایک اسلامک سینٹر میں مذہبی تعلیم دینے والے استاد قاری محمد ہاشم نے عادل خان کی بات کی تائید کی۔ ان کے بقول سیاسی معاملات اپنی جگہ لیکن ان کا اثر انفرادی شہری پر محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ ان کا کہنا ہےکہ وہ بارہ سال سے ایک ہی جگہ ملازمت کررہے ہیں اور ایسے واقعات کے بعد نمازیوں کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافہ ہوجاتا ہے۔
لیکن ڈاکٹر روزینہ کہتی ہیں کہ امریکہ میں لوگوں کا رویہ بظاہر معمول کے مطابق ہوتا ہے تاہم وہ پاکستانیوں سے کھل کر نہ بات چیت کرتے ہیں اور نہ ہی دوستی کرتے ہیں۔
نیویارک میں پاکستانی نژاد امریکی شہری اعجاز خان ٹیکسی چلاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے بعد لوگ ان کی ٹیکسی میں بیٹھنے سے گریز کرتے تھے تاہم اب ایسا نہیں ہے لیکن اب بھی لوگ پاکستانیوں سے کھچے کھچے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ جب کوئی آپ سے پوچھتا ہے کہ آپ کہاں سے ہیں اور آپ بتاتے ہیں کہ پاکستان سے، تو وہ الرٹ ہوجاتے ہیں اور پھر کوئی بات نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہے کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے، کیا پاکستان محفوظ ہے، اس قسم کے سوالات کرتے ہیں، لیکن امریکہ کیا کررہا ہے، اس پر بات نہیں کرتے‘۔

میامی میں رہائش پذیر ڈاکٹر روزینہ حجاب پہنتی ہیں اور ان کے بقول حجاب پہننے کی وجہ سے ان سے ہرجگہ کئی سوالات کیے جاتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’حجاب سے لوگ پہچان جاتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ پھر وہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کو حجاب پہننے پر کوئی مجبور کرتا ہے، کیوں لیتے ہیں آپ حجاب۔ پھر ہم انہیں بتاتے ہیں کہ ہم اپنی مرضی سے پہنتے ہیں اور بہت محفوظ تصور کرتے ہیں، اور حجاب پہننے میں تو ہم تو حضرت مریم کی تقلید کررہے ہیں تو پھر ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا‘
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں پاکستان چیمپر آف کامرس، یو ایس اے کے صدر عبدالقیوم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا اثر پاکستان سے تجارت پر بھی پڑا ہے۔ عبدالقیوم خان کنڈی کے بقول پاکستانی تاجروں کو امریکہ کے ساتھ تجارت کرنے اور کاروبار کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گردی کے ہی اثرات ہیں کہ جس کی وجہ سے ویزے اور پاکستان میں سیکیورٹی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔ ان کے بقول اب امریکہ میں مقیم پاکستانی بھی پاکستان کے ساتھ تجارت کرنے سے گریز کرتے ہیں اور وہ چین، بنگہ دیش اور دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں۔
امریکہ میں نائن الیون کے بعد امیگریشن قوانین سخت ہوگئے ہیں۔ امریکہ میں مقیم وکیل ظہور احمد وانی کا کہنا ہے کہ پاکستانیوں کی جانب سے دی جانے والی امیگریشن کی درخواستوں کی کڑی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔
ظہور احمد وانی کے بقول پاکستان یا دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے پناہ لینے کی درخواستوں کی تعداد میں بھی نمایاں حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور اس کی وجہ اب سخت قوانین ہیں۔ ظہور احمد وانی کہتے ہیں کہ امریکہ میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد جرائم میں ملوث نہیں۔ تاہم معمولی جرائم کے الزام میں ملوث ہونے پر بھی ان کے ڈی این اے ٹیسٹ لیے جاتے ہیں۔
امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان، امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے تاثر کو بہتر کرنے کی کوشش کرے جبکہ دوسری جانب امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کو چاہیے کہ وہ اسلام، پاکستان اور پاکستانی آئین کے بارے میں آگاہی حاصل کریں تاکہ وہ امریکیوں کو اپنے مؤقف پر قائل کرسکیں۔



















