فرانس میں ایک بار پھر ہڑتال

فرانس میں صدر نکولس سرکوزی کی جانب سے پینشن کے نظام میں اصلاحات اور ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کے منصوبے کے خلاف ایک بار پھر ہڑتال اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔
یونین تنظمیوں کی جانب سے کی گئی ہڑتال کے دوران دو سو تیس احتجاجی مظاہروں کا منصوبہ ہے۔ ہڑتال کی وجہ سے ذرائع آمد و رفت کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔
مظاہروں کے منتظمین کا خیال ہے کہ جمعرات کو ہڑتال کے موقع پر سات ستمبر سے زیادہ افراد شرکت کریں گے۔سات ستمبر کو احتجاجی مظاہروں میں دس لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔
پینشن میں اصلاحات کا بل پہلے ہی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں منظور کیا جا چکا ہے۔ سینٹ یا ایوان بالا میں اس بل پر پانچ اکتوبر سے بحث شروع ہو گی جہاں امید ہے کہ یہ بل آسانی سے منظور ہو جائے گا۔
فرانس میں سی ایف ڈی ٹی یونین کے سربراہ فرانکس چیرکیو کا کہنا ہے کہ احتجاج میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہونگے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم دیکھیں گے کہ سات ستمبر کی نسبت زیادہ مظاہرین ہیں تو گریٹر پیرس کے علاقے سے بسیں حاصل کر کے مظاہرے کے لیے وسطیٰ پیرس جائیں گے۔‘
پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین مظاہرین کی تعداد کا قریبی جائزہ لیں گے۔ کچھ یونین تنظیموں کی طرف سے خطرہ ہے کہ وہ ناختم ہونے والا احتجاج کریں گے، اگر انھیں حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو اس سے پہلے سے مشکلات کا شکار صدر سرکوزی پر مزید دباؤ پڑے گا۔‘
صدر سرکوزی کو پہلے ہی روما لوگوں کو ملک بدر کرنے پر یورپی اتحاد کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے جبکہ سست رو مالی بدعنوانی کے سکینڈل پر میڈیا کے حملے کا سامنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
موجودہ قوانین کے مطابق اس وقت فرانس میں خواتین اور مرد ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہو سکتے ہیں اگر انھوں نے چالیس سال اور پانچ ماہ کا سوشل سکیورٹی کی مدد میں پیسے دیے ہوں، اس کے برعکس وہ پینسٹھ سال کی عمر تک پوری پینشن حاصل نہیں کر سکتے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ حالیہ اصلاحات کے ذریعے ستر ارب یورو کی بچت کی جائے گی جبکہ دو ہزار اٹھارہ تک ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کو بڑھا کر پینسٹھ سال کیا جائے گا، سوشل سکیورٹی کو اکتالیس سال اور پانچ ماہ تک اور پوری پینشن حاصل کرنے کے لیے عمر کی حد کو 67 سال کیا جائے گا۔



















