یہودی آبادیوں میں تعمیراتی پابندی ختم

مقبوضہ غرب اردن کی یہودی بستیوں میں تعمیر پر اسرائیلی حکومت کی جزوی پابندی اتواکو ختم ہو گئی تاہم اس پابندی کے ختم ہونے سے پہلے ہی آبادکاروں نے بچوں کے نئے سکول کی بنیاد رکھ دی تھی۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اس پابندی کو برقرار نہ رکھا تو مشرق وسطی امن مذاکرات کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ مذاکرات حال ہی میں بحال ہوئے تھے
صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ امن کے عمل میں شامل دوسرے عرب ممالک سے مشاورت کے بعد امن مذاکرات سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کریں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فلسطینی صدر محمود عباس سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی وجہ سے مشرق وسطی امن مذاکرات سے دستبردار نہ ہوں۔
امریکی صدر براک اوباما نے بھی اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی کی مدت میں اضافہ کرے کیونکہ اس سے حالات پر فرق پڑا ہے اور مذاکرات کا ماحول بہتر ہوا ہے۔
غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر یہ عارضی پابندی دس ماہ کی مدت کے لیے لگائی گئی تھی۔
اس کے ختم ہونے سے پہلےاسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے غرب اردن کے یہودی آباد کاروں پر زور دیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ تاہم مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینی دیہاتوں سے گھری ہوئی یہودی بستیوں میں لوگوں نے اس پابندی کی مدت ختم ہونے پر جشن بنایا اور نئے سکول کی تعمیراتی بنیاد رکھنے کے علاوہ فضا میں غبارے چھوڑے۔
یہودی آباد کار کہتے ہیں کہ وہ پابندی میں کسی بھی طرح کی توسیع قبول نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر یہودی بستوں کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہی امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر فلسطینی حکام سے سمجھوتے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ اتوار کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی میں توسیع ممکن نہیں ہو سکے گی تاہم اس معاملے پر فلسطینیوں سے سمجھوتہ طے پا جانے کے پچاس فیصد امکانات ہیں۔
نیویارک میں بی بی سی کی سفارتی امور کی نامہ نگار بریجٹ کینڈل سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ دفاع ایہود باراک کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل واپس جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی حکومت کو سمجھوتے پر آمادہ کر سکیں تاہم انہیں اپنی کامیابی کا یقین نہیں۔
اقوام متحدہ میں صدر محمود عباس کی تقریر:

سنیچر کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی رہنما محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو امن اور یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ فلسطین اسرائیل کے ساتھ ایک جامع اور منصفانہ امن معاہدے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ایک برس کے دوران اسرائیل سے امن معاہدے کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
اسی اجلاس سے اپنے خطاب میں امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ آزاد فلسطینی ریاست کی خواہش کے تحت اسرائیل کے ٹکڑے کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے جب کہ اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں متنازعہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی برقرار رکھے۔
خیال رہے کہ انیس سو اڑسٹھ میں مشرقی یروشلم اور غرب اردن پر اسرائیل کے قبضے کے بعد اس مقبوضہ علاقے میں ایک سو کے قریب یہودی بستیاں قائم ہیں جن میں پانچ لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ عالمی برادری ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے تاہم اسرائیل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا۔



















