صدر کرزئی کی جذباتی اپیل

صدر کرکزئی
،تصویر کا کیپشنصدر کرزئی تعلیم پر بات کر رہے تھے
وقت اشاعت

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کابل کے ایک سکول میں اپنے خطاب کے دوران ملک میں عدم استحکام کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے اور رو پڑے۔

صدر کرزئی کی یہ تقریر قومی ٹیلی وژن پر نشر کی جا رہی تھی اور اس کا مقصد افغانستان میں تعلیم کو فروغ دینا تھا۔

صدر نے کہا ’ہمارے بچے بم اور خودکش حملوں کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتے۔ ہمارے اساتذہ لڑائی اور دھمکیوں کی وجہ سے سکول نہیں جا سکتے۔ سکول بند ہیں۔‘

صدر کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ جذباتی ہو کر کہنے لگے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کا تین سالہ بیٹا افغانستان میں نہ پڑھ سکے۔ ’میں چاہتا ہوں وہ یہاں سکول جائے لیکن لوگوں، میں قسم کھاتا ہوں کہ میں اس بارے میں پریشان ہوں، بہت پریشان ہوں اللہ نہ کرے کہ میر واعظ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو‘۔

ٹی وی پر دکھائی گئی تصاویر سے ظاہر ہے کہ اس تقریب میں موجود لوگوں میں سے کئی بھی رو رہے تھے۔

یہ واقعہ امریکی صحافی باب وُڈورڈ کی نئی کتاب کے بعد پیش آیا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ حامد کرزیی کو ’بائی پولر ڈِس آرڈر‘ یعنی ’مینِک ڈپریسیو‘ مرض ہے جس کے لیے انہیں باقاعدہ ادویات لینی پڑتی ہیں۔

اس تقریب سے کچھ ہی دیر پہلے صوبہ غزنی کے نائب گورنر محمد کاظم کو ایک خودکش حملہ آور نے ہلاک کر دیا تھا۔