امدادی کشتی: ٹیزر گن استعمال

 امدای کارکن
،تصویر کا کیپشنامدادی کارکنوں نے اسرائیلی فوج کا ان کے ساتھ سلوک کی تفصیل بتائی ہے
وقت اشاعت

غزہ جانے والی یہودی امدادی کارکنوں کی کشتی پر سوار ایک کارکن نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج نے ان کو ٹیزر گن سے کئی مرتبہ نشانہ بنایا۔

یوناتن شپیرا کے مطابق اسرائیلی فوج کے افسر نے ان کے قریب آکر ان پر تین مرتبہ ٹیزگن سے فائر کیا۔

شپیرا اسرائیلی فضائیہ کے سابق پائلٹ ہیں جو اب امن کے کارکن ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب اسرائیلی فوج کے اہلکار کشتی پر آئے تو وہ بیاسی سالہ رووین موکووِٹز کے ساتھ کھڑےہوئے تھے جو بقول ےن کے ’ہالوکاسٹ سروائور‘ ہیں۔ ’ہم دونوں ساتھ کھڑے ہوئے تھے، ایک دوسرے کو پکڑ کر، ایک دوسرے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے تھے، مزاحمتی گیت گا رہے تھے۔ اسرائیلی بحریہ کا ایک کپتان ہمارے پاس آیا، اس نے ٹیزر گن نکال کر کہا کہ اگر ایک دوسرے سے الگ نہ ہوئے تو۔۔۔ اس سے چوٹ لگے گی۔‘

’ہم ایک دوسرے کو پکڑے رہے۔ اس نے میرے کندھہ پر دو مرتبہ فائر کیا پھر اس نے میری لائف جیکٹ کسکائی تاکہ دل کے زیادہ قریب مجھے مار سکے۔ اس نے یہاں جب فائر کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے دورہ پڑا ہو، میں اپنے جسم پر قابو نہیں رکھ سکا۔ پھر وہ مجھے کھینچ کروہاں سے لے گئے۔‘

برطانوی صحافی وِش وشوناتھ نے یوناتن شپیرا کے ساتھ ہونے والے سلوک کی تصدیق کی ہے۔صحافی کو اسرائیلی حکام نے ملک بدر کر کے لندن روانہ کر دیا۔ لندن پہنچنے پر انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کے تین کمانڈوز نے انہیں روکا اور ان کے کیمرے اور فون ان سے لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایسی تلاشی لی گئی کہ انہیں تقریباً ننگا کردیا گیا۔

آئرین نامی اس امدادی کشتی کو ’امن کے لیے یہودی کشتی‘ کہا جا رہا تھا۔ اس پر یہودی کارکن غزہ کے لوگوں کے لیے دوائیاں، پانی صاف کرنےکا سسٹم، اور بچوں کے کھلونے لے کر جا رہے تھے۔

اسرائیلی فوج نے اس کشتی کو اشدود کے بندرگاہ میں لے جا کر روک دیا۔ پانچ اسرائیلی کارکنوں کو پوچھ گچھ کے بعد رہا کر دیا گیا اور چار غیر ملکی افراد میں سے تین کو ملک بدر کر دیا گیا۔ چوتھی جرمنی کی ایک نرس ہیں جن کو اگلے چند روز میں روانہ کر دیا جائے گا۔