’کرنسی بل سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں‘

امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایک بِل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت چین پر تجارتی پابندیوں کے نفاذ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ادھر چین کا کہنا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
اس بل کا ہدف ایسے ممالک ہیں جو اپنی کرنسی کی قدر کم رکھتے ہیں اور چین پر یہ الزام بارہا لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے برآمدکنندگان کو فائدہ پہنچانے کے لیے یوآن کی قدر کو جان بوجھ کر کم رکھتا ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس بِل کی حمایت میں تین سو اڑتالیس جبکہ مخالفت میں اناسی ووٹ آئے۔اس بل کو قانون بنانے کے لیے اس کی سینیٹ سے بھی منظوری ضروری ہے جو کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ قانون ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے قوانین سے متصادم ہے اور وہ اس کی مکمل مخالفت کرتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جیانگ یو کا کہنا ہے کہ ’(یوآن) کی شرحِ تبادلہ کو بہانہ بنا کر چین کے خلاف تجارتی تحفظ کی کوششوں سے چین اور امریکہ کے تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو صرف نقصان ہی پہنچ سکتا ہے اور اس کا منفی اثر دونوں ممالک اور عالمی معیشت پر پڑے گا‘۔
وائٹ ہاؤس نے باقاعدہ طور پر اس نئے مجوزہ قانون کی حمایت نہیں کی ہے تاہم اس نے قانون سازوں سے اس معاملے پر ضرور مشاورت کی ہے کہ یہ بل ڈبلیو ٹی او کے قوانین سے متصادم نہ ہو۔
بل کی منظوری سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا کہ’چین کی کرنسی کے حوالے سے میرے ان پر دباؤ ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی کرنسی کی قدر کہیں کم ہے‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’اگرچہ یہ ہمارے تجارتی عدم توازن کی مرکزی وجہ نہیں لیکن یہ ایک اہم نکتہ ضرور ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ چین پر یوآن کو ڈالر کے مقابلے میں مصنوعی طریقے سے ارزاں کرنے کا الزام لگاتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس سے چین کا مقصد غیرمنصفانہ طور پر قیمتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔
گزشتہ برس عالمی کساد بازاری کے خاتمے کے بعد جہاں چین کو تجارتی میدان میں بڑے پیمانے پر فائدہ ہوا ہے وہیں امریکی معیشت خسارے میں جا رہی ہے۔



















