ایکواڈور باغی: نہ معافی نے رعایت
ایکواڈور کے صدر رافیل کوئرا نے کہا ہے کہ ان کے خلاف پولیس کی بغاوت میں حصہ لینے والوں کو کوئی ‘معافی یا رعایت’ نہیں دی جائے گی۔

پولیس کی بغاوت کے بعد وہ ایک ہسپتال میں پھنس گئے تھے جہاں انہیں آنسو گیس کا نشانہ بننے کے بعد علاج کے لیے لے جایا گیا تھا لیکن باغی پولیس والوں نے ہسپتال کو بھی گھیر لیا تاہم پھر فوج نے اندھیرے کا سہارا لے کر انھیں وہاں سے نکال لیا۔
خبروں کے مطابق اس دوران ہسپتال کا گھیراؤ کرنے والے باغیوں اور فوجیوں میں جھڑپ بھی ہوئی۔
حکومت کی جانب سے اخراجات میں کمی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت فوج اور پولیس سمیت سرکاری ملازمین کی مراعات میں کمی کر دی گئی تھی جس کے خلاف پولیس کے ایک حصے نے بغاوت کر دی۔ کئی بیرکوں پر قبضہ کر لیا اور سڑکوں پر مظاہروں کے دوران ٹائر جلائے۔ اس دوران بینکوں کو لوٹنے کے واقعات بھی ہوئے۔
صدر نے اس بغاوت کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی او فوج کے سربراہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ صدر کے ماتحت ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کے دوران دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حکام کے جانب سے اس بغاوت کو حکومت کا تختہ الٹنے کی ممکنے کوشش قرار دیا گیا ہے۔
ایکواڈور پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پولیس فورس کے سربراہ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
صدر کوئرا نے کہا ہے کہ ‘پولیس میں بڑے پیمانے پر صفائی کی جائے گی اور جو کچھ ہوا ہے اسے نہ تو معاف کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی معافی دی جائے گی’۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سینتالیس سالہ صدر کوئرا امریکی تربیت یافتہ ماہر معاشیات ہیں اور تین ارب بیس کروڑ ڈالر کی عالمی ادائیگیوں کی نادہندگی کے فیصلے کے باوجود انہیں پہلی بار 2006 میں اور پھر 2009 میں دوسری مدت کے لیے صدر منتخب کیا گیا۔ اگرچہ نادہندگی کے اس فیصلے کے نتیجے میں حکومت کو وسیع تر مالیاتی مشکلات کا سامنا ہے۔



















