نائجیریا: دو کار بم دھماکوں میں آٹھ ہلاک

شدت پسندوں نے جشنِ آزادی کی تقریب کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی
،تصویر کا کیپشنشدت پسندوں نے جشنِ آزادی کی تقریب کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی
وقت اشاعت

نائجیریا کے پچاسویں جشنِ آزادی کی تقریبات کے موقع پر دارالحکومت ابوجا میں ہونے والے دو دھماکوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دونوں دھماکے کار بم تھے اور ان کا نشانہ وزارتِ انصاف کی عمارت تھی۔

مقامی پولیس حکام نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دھماکوں میں ’آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک سینیئر پولیس افسر بھی شامل ہیں‘۔

دھماکوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے والے امدادی کارکن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے دھماکے کی جگہ دس لاشوں کو دیکھا ہے۔

نائجیریا دنیا ان کے ان چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے کو خام تیل کی دولت سے مالامال ہیں تاہم اس معدنی دولت کے باوجود نائجیریا کے زیادہ تر لوگ انتہائی غریب ہیں۔

نائیجر ڈیلٹا کی آزادی کے لیے سرگرم ملیشیا گروہ ’مینڈ‘ نے جمعہ کو ایک تنبیہ جاری کی تھی جس میں دھمکی دی گئی تھی کہ وہ آزادی کی تقریبات کو نشانہ بنائیں گے۔

اس تنبیہی پیغام میں ملک میں تیل سے حاصل ہونے والی رقم کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرنے والےگروہ نے کہا تھا کہ ’ ناکامی کے پچاس سالوں کا جشن منانے کی کوئی ضرروت نہیں ہے‘۔

اگر یہ ثابت ہوا کہ ’مینڈ‘ ہی ان دھماکوں کے پیچھے ہے تو یہ اس گروپ کی دارالحکومت میں پہلی کارروائی ہوگی۔