کانگو قتلِ عام: یو این رپورٹ جلد

اقوام متحدہ جلد ہی نوے کی دہائی میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں پر متنازعہ رپورٹ جاری کردے گی۔
حتمی مسودے میں اس رپورٹ میں استعمال کیے گئے سخت الفاظ نکال دیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کو اس لیے دوبارہ دیکھنا پڑا کیونکہ پہلے والے مسودے میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیوں پر سخت تنقید کی گئی تھی جس پر یوگنڈا اور روانڈا نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔
اس رپورٹ کے پہلے مسودے میں یوگنڈا اور روانڈا دونوں پر کانگو میں ہوٹو قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل عام کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
ان دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے امن مشن سے علیحدگی کی دھمکی دی تھی۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کانگو میں انیس سو ترانوے سے دو ہزار تین تک مرتکب کیے گئے جرائم کو تفصیل کی شکل دی گئی ہے۔
اس رپورٹ میں لگ بھگ چھ سو واقعات پر روشنی ڈالی گئی ہے جن میں شہریوں کا قتلِ عام، تشدد اور انفراسٹرکچر کی تباہی جس کے باعث شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں شامل ہیں۔
روانڈا نے اپنی ٹوٹسی قبیلے سے تعلق رکھنے والی فوج پر عائد الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔
روانڈا کے صدر پول کگامے کا موقف یہ رہا ہے کہ اس کی فوج کانگو، جو 1997 تک زائر کہلاتا تھا، میں داخل اس وقت ہوئی جب ہوٹو عسکریت پسند نے روانڈا میں قتل عام کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















