’یورپ میں دہشت گرد حملوں کا خطرہ‘

انٹیلیجنس ذرائع کے مطابق القاعدہ یورپ کے تین شہروں میں ممبئی حملوں کی نوعیت کے بڑے کمانڈو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے
،تصویر کا کیپشنانٹیلیجنس ذرائع کے مطابق القاعدہ یورپ کے تین شہروں میں ممبئی حملوں کی نوعیت کے بڑے کمانڈو حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے
وقت اشاعت

برطانیہ کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے شہریوں کو یورپ میں سفر کی دوران حملوں کے ’ بہت زیادہ خطرے‘ کی نئی سفری وراننگ جاری کی ہے۔

یورپ کے ان ممالک میں جرمنی اور فرانس بھی شامل ہیں۔

اس سے پہلے دفتر خارجہ نے واننگ جاری کی تھی کہ یورپ میں’ معمولی خطرہ‘ ہو سکتا ہے لیکن اب اس وارننگ کو اپ ڈیٹ کیا گیا گیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک میں برطانوی شہریوں کی حفاظت پر انھیں بڑی تشویش ہے۔

<link type="page"><caption> ’یورپ میں دہشت گرد حملوں کا خدشہ‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/10/101003_us_warning.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> یورپ میں حملے، القاعدہ کے مبینہ منصوبے کا انکشاف</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/09/100928_europe_alqaeda_plot.shtml" platform="highweb"/></link>

ترجمان کے مطابق یورپ کے بڑے ممالک( جرمنی، فرانس) میں دہشت گردی حلموں کے بہت زیادہ خطرات ہیں، جس کی وجہ سے ہی برطانیہ نے نئی وراننگ جاری کی ہے۔

ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ سفری واننگ کو انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ مختلف معلومات جس میں دہشت گردی کے مشترکہ سینٹر، سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی معلومات، سفارت کار اور میڈیا رپورٹس، مقامی معلومات اور سفارت خانوں سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو سفری وراننگ جاری کی ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کے پیشِ نظر یورپ میں سفر کے دوران ہوشیار رہیں۔

امریکی حکومت القاعدہ کی جانب سے یورپی ملکوں پر کمانڈو طرز کے حملوں کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو ہوشیار رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

برطانوی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ القاعدہ تنظیم پرہجوم مقامات پر عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے مسلح ٹیمیں بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

ذرائع کے خیال میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی مسلح شدت پسندوں کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلح حملے اسی پیمانے پر ہو سکتے ہیں جس پیمانے پر سن دو ہزار آٹھ میں ممبئی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابتدا میں ہی پتہ چل گیا تھا اور اس حوالے سے متعدد افراد کی نگرانی جاری ہے۔

وارننگ میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کو شدت پسندوں کی طرف سے ٹرانسپورٹ سسٹم اور دیگر سیاحتی مقامات پر ممکنہ حملوں سے متعلق یاد دہانی کرائی گئی ہے۔

’شدت پسند زیر زمین ریل سسٹم، ایوی ایشن اور بحری سروس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔‘