افغانیوں کے قتل پرکورٹ مارشل کا سامنا

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ کہ اس کا ایک فوجی کورٹ مارشل کارروائی کا سامنا کرے گاجو افغان شہریوں کے قتل میں ملوث ہے۔
جرمی مرلاک ان پانچ امریکی فوجیوں میں سے ایک ہیں جن پر اس برس کے اوائل میں دانستہ طور پر افغان شہریوں کے قتل الزام ہے۔
پانچوں امریکی فوجی اس الزام کی تردید کرتے رہے ہیں جبکہ اسی یونٹ کے سات دیگر فوجیوں پر اس جرم کی پردہ پوشی کرنے کا الزام ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ کارپورل مرلاک کو اس مقدمہ میں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
فوج کی ترجمان کیتھلین ٹرنر کا کہنا ہے کہ جان بوجھ کر قتل کرنے کی سزا ممکنہ طور پر موت ہوسکتی ہے لیکن فوج نے اس کے لیے زور نہیں دیا ہے۔
امریکی فوج کے جانب سے داخل کردہ چارج شیٹ کے مطابق فوجیوں پر افغان شہریوں کوگرینڈ اور آتشی اسلحے سے ہلاک کرنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
دیگر فوجیوں پر لاش پر چھرے گھونپنے، لاشوں کی تصاویر کھینچے اور کئی افراد کو تفتیش کاروں سے دور رکھنے کے لے مارنے پیٹنے کا الزام ہے۔
ان فوجیوں کا تعلق’ ففتھ سٹائیکر بریگیڈ‘ سے ہے۔ یہ دستہ افغانستان کے صوبہ قندھار میں تعینات تھا جہاں طالبان سے شدید جنگ ہوتی رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کارپورل مرلاک کے وکیل مشیل ویڈنگٹن کا کہنا ہے کہ اس جرم سے ان کے موکل کا جسمانی طور پر کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا ہے اور موکل نے تفتیشی ادروں کے ساتھ اچھا تعاون کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مکمن ہے یہی وجہ ہو کہ فوج نے انہیں موت کی سزا دینے کے لیے زور نہیں دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مرلاک نے تفتیش کے دوران اس کی پوری تفصیل بتائی ہیں اور ان کے مطابق ان کی یونٹ کے سربراہ سارجنٹ گبز کی سربراہی میں قتل کی یہ واردات کی گئی تھی۔
اطلاعات کے مطابق فوجیوں کے خلاف یہ چارج شیٹ کرپورل مُر لاک کے بیانات کی روشنی میں تیار ہوئی ہے۔
کارپورل مُرلاک کے وکیل کہتے ہیں کہ اُن کے موکل صدمے کے باعث ہونے والی عار ضی ذہنی معذوری میں مبتلا تھے اور اس کے ادویات استعمال کر رہے تھے۔ انھوں نے یہ بیانات اُس وقت دئے جب وہ ادویات کے زیر اثر تھے۔



















