’پابندی ہٹنے کے بعد تعمیر شروع‘

اسرائیل کی ایک غیر سرکاری تنظیم پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ غرب اردن کی یہودی بستیوں میں تعمیر پر اسرائیلی حکومت کی جزوی پابندی ختم ہونے کے تین ہفتے بعد سے یہودیوں نے چھ سو زیادہ گھر تعمیر کرنے شروع کردیے ہیں۔
پیس ناؤ کا کہنا ہے کہ گھروں کی تعمیر کا کام جس تیزی سے ہورہا ہے وہ پابندی لگنے سے پہلے سے چار گنا زیادہ ہے۔
مقبوضہ زمین پر یہودیوں کی جانب سے بستیوں کی تعمیر سے حال ہی میں دوبارہ شروع ہوئی مشرقی وسطی کی امن مذاکرات ختم ہوسکتی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے کہ چکے ہیں کہ اگر اسرائیل نے اس پابندی کو برقرار نہ رکھا تو مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کو جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ یہ مذاکرات حال ہی میں بحال ہوئے تھے۔
امریکی صدر براک اوباما نے بھی اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی کی مدت میں اضافہ کرے کیونکہ اس سے حالات پر فرق پڑا ہے اور مذاکرات کا ماحول بہتر ہوا ہے۔
غرب اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر یہ عارضی پابندی دس ماہ کی مدت کے لیے لگائی گئی تھی۔ جزوی پابندی 26 ستمبر کو ختم ہوگئی تھی۔
اس کے ختم ہونے سے پہلےاسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے غرب اردن کے یہودی آباد کاروں پر زور دیا تھا کہ وہ بستیوں کی تعمیر کے معاملے پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ تاہم مقبوضہ غربِ اردن میں فلسطینی دیہاتوں سے گھری ہوئی یہودی بستیوں میں لوگوں نے اس پابندی کی مدت ختم ہونے پر جشن بنایاتھا اور نئے سکول کی تعمیراتی بنیاد رکھنے کے علاوہ فضا میں غبارے چھوڑے۔
یہودی آباد کار کہتے ہیں کہ وہ پابندی میں کسی بھی طرح کی توسیع قبول نہیں کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ادھر یہودی بستوں کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہی امریکی اور اسرائیلی حکام نے اس معاملے پر فلسطینی حکام سے سمجھوتے کی کوششیں تیز کردی تھیں۔
اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کو بستیوں کی تعمیر پر پابندی میں توسیع ممکن نہیں ہو سکے گی تاہم اس معاملے پر فلسطینیوں سے سمجھوتہ طے پا جانے کے پچاس فیصد امکانات ہیں۔



















