کارگو پروازوں سے دھماکہ خیز مواد برآمد

یمن سے امریکہ جانے والی کارگو پروازوں سے دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کے بعد صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ پر دہشت گرد حملے کا خاطرخواہ خطرہ موجود تھا۔
امریکی صدر نے جمعہ کو واشنگٹن میں ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ دونوں پیکٹ یمن سے شکاگو میں ایک یہودی مذہبی عبادت گاہ کے پتے پر بھیجے گئے تھے۔
صدر اوباما نے بتایا ہے کہ برطانیہ کے ایسٹ مِڈلینڈ ائیرپورٹ اور دبئی سے برآمد ہونے والے پیکٹوں میں دھماکہ خیر مواد پایا گیا ہے۔
اس سے پہلے امریکی حکام نے یمن سے امریکہ جانے والی کارگو فلائٹ پر مشتبہ پیکٹ ملنے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور دبئی کے ہوائی اڈوں پر ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق یمن سے مشتبہ دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی کے بارے میں معلومات سعودی عرب نے فراہم کی تھیں۔
صدر اوباما نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ انہیں مشتبہ پیکٹوں کے بارے میں معلومات جمعرات کو فراہم کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے بات ہوئی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق تحقیقات میں اپنے ملک کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

انسداد دہشت گردی سے متعلق صدر اوباما کے مشیر جان برینن کا کہنا ہے کہ دونوں پیکٹوں میں پائے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے اور اس سے اب کسی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
مسٹر برینن کے مطابق امریکی تحقیقاتی ادارے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خطرے کی سنگینی نے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے دہشت گردی کے خطرے سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا۔
امریکی حکام نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دبئی اور ایسٹ مڈلینڈ ایئرپورٹ سے ملنے والا دھماکہ خیز مواد اسی نوعیت کا تھا جس طرح کا مواد گزشتہ سال کرسمس کے روز امریکہ جانے والی پرواز کو دھماکے سے اڑانے کے لیے کیے گئے ناکام حملے میں استعمال ہوا تھا۔
اس سے پہلے امریکی ریاست نیو جرسی کے نیووارک اور فِلا ڈیلفیا میں ہوائی اڈوں پر کارگو کمپنی یو پی ایس کے جہازوں اور نیویارک سٹی میں یو پی ایس کے ملکیتی ایک ٹرک کی تلاشی لی گئی۔
دھماکہ خیز مواد کا حامل ایک پیکٹ برطانیہ کے ایسٹ مڈلینڈ ائیرپورٹ پر برآمد کیا گیا جہاں یمن سے شکاگو جانے والی ایک کارگو پرواز ایندھن لینے کے لیے رکی تھی۔

حکام کے مطابق ایک اور مشتبہ پیکٹ دبئی سے اس وقت برآمد ہوا جب ایک اور امریکی کارگو کمپنی فیڈ ایکس اپنے سامان کی تلاشی لے رہی تھی۔
امریکہ میں اندرونِ ملک سکیورٹی کے نگران ادارے ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا ہے کہ سکیورٹی کو مزید سخت بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں کارگو کی مزید موثر پڑتال بھی شامل ہے۔
اس موقع پر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان تلاشیوں کے سلسلے میں دہشت گردی کے شبے کی تصدیق ہو گئی تو شک کی نظر سب سے پہلے یمن میں سرگرم عمل القاعدہ تنظیم کی طرف جائے گی۔
برطانوی سیکریٹری داخلہ ٹیریسا مے کا کہنا ہے کہ موجودہ ہنگامی حالت کے پیش نظر یمن سے برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازوں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
دوسری طرف کارگو کمپنی یو پی ایس نے بھی تا حکم ثانی یمن سے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ امارات ائیرلائن کی پرواز دو سو ایک کو جیٹ طیاروں کی نگرانی میں نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر اتارا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اقدام انتہائی احتیاط کے طور پر لیا گیا کیونکہ اس پرواز پر یمن سے لایا جانے والا کچھ سامان لدا ہوا تھا۔



















