کھلاڑیوں پر پابندی۔ کب کیا ہوا؟

اگست کے آخری ہفتے کے اختتام پر انگلینڈ کے اخبار نیوز آف دی ورلڈ نے پاکستانی کرکٹ کے کچھ کھلاڑیوں پر پیسے لے کر طے شدہ موقع پر نو بال کروانے کا الزام لگایا۔
تیس اگست کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کھیل کے چیئرمین نے مطالبہ کیا ہے کہ سٹے بازی میں ملوث تمام کرکٹرز پر تاحیات پابندی لگائی جائے۔
اٹھائیس اگست کو پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھے ٹیسٹ کے دوران شرطیں لگانے کے فراڈ کے ملزم پینتیس سالہ مظہر مجید کو برطانوی پولیس نے فرد جرم عائد کیے بغیر ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
ادھر پاکستان کرکٹ ٹیم کے مینیجر نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں پر سپاٹ فکسنگ کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات سنگین ہیں تاہم فی الحال یہ صرف الزامات ہی ہیں۔
انتیس اگست لارڈز میں ’سپاٹ فکسنگ‘ کے سائے میں کھیلے گئے چوتھے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے پاکستان کو ایک اننگز اور دو سو پچیس رنز سے شکست دے کر چار میچوں کی سیریز ایک کے مقابلے میں تین میچوں سے جیت لی ہے۔
آئی سی سی نے پابندی عائد کرنے کے بعد تینوں کھلاڑیوں سے جواب طلب کیا تھا اور چودہ ستمبر کو سلمان بٹ سیمت تینوں کھلاڑیوں نے لندن میں اپنی وکیل کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے نوٹس کا جواب دے دیا تھا۔
تین ستمبر کو پاکستانی کھلاڑیوں سے سے شمالی لندن کے تھانے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ تین ستمبر کو آئی سی سی نے پاکستان کے تین کھلاڑیوں پر کرکٹ کونسل کے آرٹیکل دو کی کئی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہیں عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
دو ستمبر برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے جو کھلاڑی حالیہ سکینڈل میں ’ملوث‘ قرار دیے گئے ہیں خود ان کی درخواست پر انھیں دورۂ انگلینڈ کے باقی میچوں سے الگ کر دیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چار ستمبر پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل حیدر رضوی کا کہنا ہے کہ پاکستانی کرکٹرز کو مظہر مجید کے بارے میں قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ اس کی سرگرمیاں مشکوک یا غیر قانونی ہوسکتی ہیں اور وہ اسے صرف اپنے ایجنٹ کے طور پر جانتے تھے۔
پانچ ستمبر کو بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی اخبار نے اپنے ’سٹنگ آپریشن‘ کے لیے جو کیش رقم ایک ایجنٹ کو دی تھی اس میں سے چار ہزار پاؤنڈ پولیس کو پاکستانی ٹیم کے تین کھلاڑیوں کے کمروں سے ملے ہیں۔
پانچ سمتبر کو برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ نے انکشاف کیا کہ کرکٹ کا بین الاقوامی ادارہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پاکستان کے ایک اور کھلاڑی سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔
اخبار نے یہ بھی دعوٰی کیا ہے کہ پاکستانی ٹیم کے اوپنر یاسر حمید نے دیگر کھلاڑیوں کے بھی میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے بارے میں اخبار کے ساتھ گفتگو کی ہے جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔
اٹھائیس ستمبر کو انگلینڈ کے حالیہ دورے پر کرکٹ ٹیم کے مینیجر رہنے والے یاور سعید عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ پچھتر سالہ یاور سعید نے کہا کہ وہ اپنے استعفے کے فیصلے پر کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن وہ ’کچھ عرصے سےاس کے بارے میں سوچ رہے تھے۔‘
تئیس ستمبر کو محمد آصف نے آئی سی سی کی طرف سے ان کے کھیلنے پر لگائی گئی عارضی پابندی کے خلاف کی جانے والی اپیل واپس لے لی۔
انیس اکتوبر پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کی طرف سے پاکستان میں کرکٹ کے کھیل کو شفاف بنانے کی وارننگ کے بعد ٹیم کے لیے ایک نئے ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا۔
آئی سی سی نے سنیچر تیس اکتوبر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر پر پابندی کے خلاف اپیلوں کی سماعت شروع کر دی ہے۔
اب اس واقعے کے دو ماہ بعد اکتیس اکتوبر کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ان کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ اور محمد عامر پر پابندی کے خلاف اپیلیں مسترد کرتے ہوئے معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ تیسرے کھلاڑی محمد آصف نے اپنی معطلی کے خلاف اپیل نہیں کی تھی۔



















