پارسل بم امریکہ ہم نے بھیجے تھے: القاعدہ

طاقتور دھماکہ خیز مواد پرنٹر کے کارٹرجز میں چھپایا گیا تھا اور ڈبوں پر شکاگو میں یہودی عبادت گاہوں کا پتہ درج تھا
،تصویر کا کیپشنطاقتور دھماکہ خیز مواد پرنٹر کے کارٹرجز میں چھپایا گیا تھا اور ڈبوں پر شکاگو میں یہودی عبادت گاہوں کا پتہ درج تھا
وقت اشاعت

جزیرہ نما عرب میں شدت پسند گروپ القاعدہ نے کہا ہے کہ اس نےگزشتہ ہفتے جہازوں کے کارگو کے ذریعے دو پارسل بم امریکہ بھیجے تھے۔

اسلامی ویب سائٹ پر ایک پیغام میں یمن میں موجود شدت پسند گروپ کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ اور اس کے حریفوں کو نشانہ بناتا رہے گا۔

یمن سے پرواز کے بعد دبئی اور برطانیہ سے ہوتے ہوئے امریکہ جانے والے جہازوں کے سامان خانے سے ملنے والے دونوں بم ماہرین نے ناکارہ بنا دیے تھے۔

انتیس اکتوبر کو دونوں بموں کا پتہ اس وقت چلا تھا جب برطانوی اہلکاروں کے مطابق، القاعدہ کے ایک رکن نے خود کو سعودی عرب میں حکام کے حوالے کرنے کے بعد یہ بتایا تھا کہ یمن سے بم امریکہ بھیجے جا رہے ہیں۔

اسلامی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں شدت پسند گروپ نے سعودی عرب پر (امریکہ کے خلاف) حملے کو ناکام بنانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ سعودی عرب نے یہودی کے ساتھ ساز باز کی ہے۔

طاقتور دھماکہ خیز مواد پرنٹر کے کارٹرجز میں چھپایا گیا تھا اور ان ڈبوں پر شکاگو میں یہودی عبادت گاہوں کا پتہ درج تھا۔

یمن میں سکیورٹی افواج جزیرہ نما عرب میں القاعدہ شدت پسند تنظیم کے مشتبہ بم ساز ابراہیم الاسیری کی تلاش کر رہی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کارگو کے ذریعے امریکہ بم بھیجنے کی سازش تیار کرنے والے ہیں۔

تین ستمبر کو یو پی ایس کا کارگو طیارہ پرواز کے فوری بعد دبئی کے ہوائی اڈے کے قریب گر گیا تھا جس میں عملے کے دو ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ تحقیق کاروں کو ابھی تک واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حادثہ کیسے ہوا۔

امریکی صدر براک اوباما کے نام اپنے پیغام میں شدت پسند گروپ نے کہا: ’ہم نے صرف ایک سال میں تمہارے تین جہازوں کو نشانے پر لیا ہے۔ اور خدا نے چاہا تو ہم امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بناتے رہیں گے۔‘