صومالی قزاقوں کو بارہ ملین ڈالر سے زیادہ کا تاوان

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنایک قزاق نے جس نے اپنا نام حسین بتایا، خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم کیش گن رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہم جہاز سے اتر جائیں گے۔‘
وقت اشاعت

صومالیہ میں قزاقوں کے بارے میں اطلاع ہے کہ انھوں نے دو جہازوں کو جن پر ان کا قبضہ تھا، چھوڑنے کے لیے بارہ اعشاریہ تین ملین ڈالر کا تاوان وصول کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے جنوبی کوریا کے تیل کے ٹینکر سیمہو ڈریم کو چھوڑنے کے لیے نو اعشاریہ پانچ ملین ڈالر جبکہ سنگاپور کے جہاز گولڈن بلیسنگ کی رہائی کے لیے تقریبا دو اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر لیے۔

ایک قزاق نے جس نے اپنا نام حسین بتایا، خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا: ’اب ہم کیش گن رہے ہیں۔ تھوڑی دیر میں ہم جہاز سے اتر جائیں گے۔‘

خیال ہے کہ دونوں یرغمال جہازوں پر موجود عملہ خیریت سے ہے۔

سیمہو ڈریم کو بحرِ ہند سے اس سال اپریل میں پکڑ لیا گیا تھا اور اس پر عملے کے پانچ ارکان اور انیس فلیپینو کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ یہ جہاز ایک سو ستر ملین ڈالر کا خام تیل لے کر عراق سے امریکہ جا رہا تھا۔

قزاقوں نے ابتدائی طور پر بیس ملین ڈالر کا تاوان طلب کیا تھا۔ خیال ہے کہ قزاقوں کو تاوان کی اتنی بڑی رقم اس سے پہلے کبھی ادا نہیں کی گئی۔

نیروبی میں بی بی سی کے کیون مواچیرو کا کہنا ہے کہ دو جہازوں کو چھڑانے کے لیے جتنی بڑی رقم ادا کی گئی ہے اس کی وجہ سے اب جب بھی صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنے جہازوں کی رہائی کی بات ہوا کرے گی تو بات چیت کے اصول بھی مختلف ہوا کریں گے۔

اس سے قبل اطلاع تھیں کہ قزاقوں نے سیمہو ڈریم کی رہائی کے لیے نو ملین ڈالر جبکہ گولڈن بلیسنگ کے لیے سات ملین ڈالر لیے تھے لیکن بعد میں تاوان کی رقم بڑھا دی گئی۔

گولڈن بلیسنگ میں عملے کے تئیس ارکان سوار تھے جن کا تعلق چین سے ہے۔