افغان عوام ’زیادہ پُر امید‘

افغان
،تصویر کا کیپشنبیشتر رائے دہندگان نے کہا کہ عدم استحکام اور سکیورٹی ان کی سب سے بڑی پریشانی ہے
وقت اشاعت

رائے عامہ کے ایک نئے جائزے کے مطابق افغان عوام اب اپنے مستقبل کے بارے میں زیادہ پُر امید نظر آ رہی ہے۔

ایشیا فاؤنڈیشن کے سروے کے مطابق اس میں شامل سینتالیس فیصد رائے دہندگان کا خیال تھا کہ افغانستان صحیح سمت میں جا رہا ہے۔ پچھلے سال صرف اکتالیس فیصد افراد کا یہ خیال تھا۔

امریکی تنظیم ’یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ‘ کے زیر اہتمام کیے گئے سروے کے مطابق تراسی فیصد لوگ صدر کرزئی کے طالبان سے بات چت کی کوششوں کی بھی حمایت کرتے ہیں۔پچھلے سال کے سروے میں صرف بارہ فیصد لوگوں نے اس عمل کی حمایت ظاہر کی تھی۔

تاہم اس سروے میں شامل کیے گئے افراد میں لوگوں کے لیے عدم استحکام اور تشدد افغانستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ پچاس فیصد سے زیادہ رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے مقامی علاقوں میں غیر محفوظ محسوس کرتےہیں۔

سکیورٹی کے علاوہ لوگوں نے کرپشن اور بے روزگاری کو انہیں درپیش سب سے بڑے مسائل قرار دیا۔

بیشتر لوگوں کا خیال تھا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے مسئلے کا حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی طریقے سے ہونا چاہیے۔

سروے کے مطابق ملک میں مزاحمت کاروں کے لیے حمایت میں کمی آئی ہے تاہم افغاسنتان کے جنوب اور مغربی علاقوں میں اب بھی لوگوں میں طالبان کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے۔

یہ چھٹا سال ہے کہ یہ سروے کرایا گیا ہو۔ اس میں جون اور جولائی کے ماہ میں افغاسنتان کے 34 صوبوں میں سے 6400 بالغ افراد سے ان کی رائے پوچھی گئی تاہم ملک کے کئی خطرناک علاقوں سے لوگوں کی رائے اس میں شامل نہیں کی جا سکی۔