اسرائیل اعلان ’انتہائی مایوس کن‘

وقت اشاعت

اقوام متحدہ اور امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقوں میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف یہودی بستیوں کی تعمیر کرنے کا اعلان انتہائی مایوس کن ہے اور اس سے فلسطینیوں سے براہ راست مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نےاسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو سے سے کہا کہ یہ معاملہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ امن مذاکرات میں تعطل کو ختم کرنے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

اسرائیل نے چند دن قبل مشرقی یروشلم کے علاقے میں تیرہ سو مزید مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔

بین الاقوامی قوانین کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے اور اسی معاملے پر اسرائیلی حکومت اور فلسطینیوں کے درمیان براہراست مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

اسرائیل حکومت کی طرف سے یہ اعلان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو امریکہ کے دورے پر ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہ اعلان مذاکرات کے سلسلے کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق اعلیٰ فلسطینی مذاکرات کار صائب ایرکات کا کہنا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو امریکہ جا کر مقبوضہ علاقوں میں تعمیراتی کام کو روکنے اور براہ راست مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھانے کا اعلان کریں گے لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کے سلسلے کو تباہ کرنے پر کمر برستہ ہے۔

.اسرائیل کی وزارت داخلہ کے اعلان میں کہا گیا تھا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم کے علاقے حر ہوما میں مزید ایک ہزار گھر تعمیر کیے جائیں گے جب کہ تین سو نئے گھر فلسطینی قصبے بیتلہم کے قریب رموت میں بنائے جا رہے ہیں۔

انیس سو سڑسٹھ میں مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے اسرائیل اب تک یہاں پانچ یہودیوں کو آباد کر چکا ہے۔