یہودی بستیاں: اسرائیلی کابینہ میں اختلافِ رائے

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے اپنی کابینہ کو امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو غربِ اردن میں بستیوں کی تعمیر روکنے کے بدلے میں مراعاتی پیکیج کی پیشکش سے آگاہ کیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق کابینہ میں امریکی پیشکش پر اختلافِ رائے ہو گیا ہے۔ کچھ وزراء واشنگٹن سے مزید یقین دہانی چاہتے ہیں جبکہ نائب وزیرِ اعظم موشے یالون نے اسے ’ہنی ٹریپ‘ یعنی ایک جال قرار دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق موشے یالون وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی لکود پارٹی کے ان چار ممبران میں سے ایک ہیں جنہوں نے اس معاہدے کی مخالفت کی ہے۔
امریکہ نے اسرائیل کو بستیوں کی تعمیر روکنے کے عوض دفاع اور سکیورٹی کی ضمانت اور اس کے خلاف پیش کی جانے والی بین الاقوامی قراردادوں کا مقابلہ کرنے کی پیشکش کی ہے۔
اس کے بدلے میں اسرائیل نوے دن کے اندر اندر غربِ اردن میں بستیوں کی تعمیر روک دے گا۔
فلسطینی انتظامیہ نے تجاویز کو رد کر دیا ہے کیونکہ اس میں مشرقی یروشلم میں بستیوں کی تعمیر روکنے کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔
اس مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیل تین ماہ کے لیے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روک دے گا تاہم مشرقی یروشلم میں یہ عمل جاری رہے گا۔
غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر دوبارہ شروع ہونے سے فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن بات چیت کا عمل دوبارہ معطل ہوگیا ہے۔ یہ بات چیت بیس ماہ کے تعطل کے بعد رواں سال ستمبر میں امریکہ میں دوبارہ شروع ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ منصوبے کے مطابق امریکہ تعمیر پر پابندی کی مدت میں نوے دن کے بعد توسیع نہیں چاہے گا اور اس نے اسرائیل کو بستیوں کی تعمیر روکنے کے عوض سکیورٹی کی ضمانت اور اس کے خلاف پیش کی جانے والی بین الاقوامی قراردادوں کا مقابلہ کرنے کی پیشکش کی ہے۔
فی الحال نہ ہی امریکہ اور نہ اسرائیل کی جانب سے اس مراعاتی پیکیج کے حوالے سے کوئی باقاعدہ بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر پر عائد دس ماہ کی پابندی چھبیس ستمبر کو ختم ہوئی تھی جس کے بعد گزشتہ ماہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے فلسطینیوں کو پیشکش کی تھی کہ وہ اگر اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کر لیں تو بستیوں کی تعمیر پر عائد پابندی میں توسیع کر دیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیل غربِ اردن اور مشرقی یروشلم پر سنہ 1967 سے قابض ہے اور اس نے یہاں سو سے زائد بستیوں میں پانچ لاکھ یہودیوں کو بسایا ہے۔ بین الاقوامی قوانین ان بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتے ہیں تاہم اسرائیل یہ بات تسلیم نہیں کرتا۔



















