جعلی ملا منصور سے مذاکرات!

کابل میں برطانوی سفارت خانے نے اس بیان کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے
،تصویر کا کیپشنکابل میں برطانوی سفارت خانے نے اس بیان کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے
وقت اشاعت

افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ برطانوی حکام ایک جعلی طالبان کمانڈر کو افغان حکومت کے ساتھ حساس نوعیت کے اجلاسوں میں لائے تھے۔

صدر حامد کرزئی کے چیف آف سٹاف محمد عمر داؤد زئی نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ برطانوی سفارتکار گزشتہ جولائی یا اگست میں اس جعلی طالبان کمانڈر کو صدر کرزئی سے ملوانے لائے تھے۔

اس شخص کا تعارف یہ کہہ کر کرایا گیا تھا کہ وہ سینئر طالبان کمانڈر ملا منصور ہیں۔

برطانوی اخبار ٹائمز کے مطابق اس شخص کو برطانوی خفیہ ادارہ ایم آئی سکس سامنے لایا تھا اور ادارے کو یقین تھا کہ اس نے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

عمر داؤد زئی نے کہا کہ اس معاملے میں ہمارے بین الاقومی شراکت داروں کے لیے جو ایک سبق ہے وہ یہ ہے کہ انہیں اس طرح کے معاملات میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔

کابل میں برطانوی سفارت خانے نے داؤد زئی کے اس بیان کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ سفارت خانے کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ ایسی کارروائیوں کے بارے میں تبصرہ نہیں کرتے۔

افغان حکومت کی اس بہروپیے طالبان کمانڈر کے ساتھ ملاقات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک رابطہ تھا نہ کہ مذاکرات۔

تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ یہ شخص دراصل پاکستان کے شہر کوئٹہ کا ایک دکان دار تھا۔ اب یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص طالبان سے مصالحت کرانے کے لیے لاکھوں ڈالر لے کر فرار ہو گیا۔

افغان حکام اس بڑی غلطی کی تمام تر ذمہ داری برطانوی حکام پر عائد کر رہے ہیں۔

ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے یہ نظر آئے گا کہ ہم طالبان سے مذاکرات کے لیے مرے جا رہے ہیں اور وہ جیت رہے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا تھا کہ اس شخص سے آخری ملاقات کے بعد سے افغان اور امریکی حکام اس کشمکش میں مبتلا تھے کہ یہ شخص کون ہے۔ کچھ حکام کا خیال تھا کہ یہ شخص پیسے حاصل کرنے کے لیے فراڈ کر رہا ہے۔ چند حکام کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ طالبان کی طرف سے بھیجا گیا کوئی ایجنٹ ہو۔

ایک امریکی اہلکار نے جو مذاکرات کے عمل سے وابستہ تھے کہا کہ طالبان امریکیوں اور ہماری خفیہ ایجنسیوں سے زیادہ چالاک ہیں اور وہ ہمارے ساتھ کھیل کر رہے ہیں۔

اخبار کے مطابق کچھ لوگوں کو شک تھا کہ طالبان کے اس جعلی رہنما کو ہو سکتا ہے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بھیجا ہو کیوں کہ آئی ایس آئی میں شامل عناصر نے افغانستان میں ایک عرصے سے دوہرا کھیل کھیلا ہے۔ ایک طرف وہ امریکی حکام کو یہ یقین دلاتے رہے ہیں کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور دوسری طرف وہ شدت پسندوں کو امداد بھی مہیا کرتے رہے ہیں۔

اس سال جنوری میں ملا عبد الغنی برادر کو جو اس وقت ملا عمر کے نائب تھے امریکی سی آئی اے اور آئی ایس آئی کی ایک مشترکہ کارروائی میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

گو کہ اس مشترکہ کارروائی کو امریکہ اور پاکستان کی طرف سے دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی مثال بنا کر پیش کیا گیا تھا لیکن بعد میں کہا گیا کہ پاکستان حکام نے ملا برادر کو اس لیے گرفتار کروایا کیوں کہ وہ آئی ایس آئی کی اجازت کے بغیر افغان حکام سے بات چیت کرنا چاہتے تھے۔

افغان حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق کی تھی۔