امریکہ، جنوبی کوریا فوجی مشقیں شروع

جنوبی کوریا اور امریکہ نے جنوبی کوریا کے مغربی ساحل پر چار روزہ فوجی مشقیں شروع کردی ہیں جبکہ شمالی کوریا نے خبردار کیا ہے کہ مشترکہ جنگی مشقیں خطے کو جنگ کے دہانے کی جانب دھکیل رہی ہیں۔
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان فوجی کشیدگی کے دوران امریکی بحری بیڑا خطے میں پہنچ چکا ہے جہاں جنوبی کوریا کے ساتھ امریکی میرینز کی چار روزہ فوجی مشقیں شروع ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب چین نے بھی اپنی سرحد کے قریب غیر ملکی فوجی مشقوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ دفاعی نوعیت کی مشقیں ہیں جن کا مقصد شمالی کوریا کو جنوبی کوریا پر مزید حملوں سے باز رکھنا ہے۔
سیؤل میں فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ان فوجی مشقوں کا شیڈول شمالی کوریا کی جانب سے اس کے ایک جزیرے پر گولہ باری سے بہت پہلے تیار ہو چکا تھا۔ تاہم ان مشقوں کی شدت میں ان حملوں کے بعد اضافے کی توقع ہے۔
جارج واشنگٹن نامی امریکی بحری بیڑے کے علاوہ امریکی فوجی قافلے میں چار دیگر بحری جنگی جہاز شامل ہیں جو جنوبی کوریا کے جنگی بحری جہازوں اور آبدوز شکن میزائلوں سے لیس سرحد پر گشت کرنے والے چھوٹے بحری کے ساتھ چار روزہ فوجی مشقوں میں حصہ لیں گے۔
یہ مشقیں شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان متنازعہ سمندری حدود سے ایک سو پچیس کلومیٹر دور کوریائی ساحل پر منعقد کی جارہی ہیں۔ ان میں شامل امریکی بحری بیڑا اس علاقے سے مزید دور ہو گا لیکن اس کے باوجود چین کے کئی شہر اس کے نشانے کی زد میں ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے جس نے چینی قیادت کو پریشان کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ منگل کے روز شمالی کوریا کے توپخانے نے یون پیونگ نامی جزیرے پر پچاس کے قریب گولے پھینکے تھے اور اس کارروائی میں جنوبی کوریا کے دو فوجی اور دو شہری ہلاک ہوگئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مارا گیا ہے تو اسے اس پر افسوس ہے۔ تاہم شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ اس واقعے کی ذمہ داری جنوبی کوریا پر عائد ہوتی ہے جو بقول اس کے اپنے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق شمالی کوریا، جنوبی کوریا کی کسی بھی فوجی کارروائی کا بھرپور جواب دے گا۔



















