انتہاؤں کی دنیا: ہلاکتیں

انتہاؤں کی دنیا سیریز کے تیسرے حصے میں ہماری نظر شرحِ حیات پر ہوگی۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں وہ عمر جس تک لوگ زندہ رہتے ہیں مختلف ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگوں کے جینے کے طور طریقوں پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں اوسط عمر میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ جیسے کہ جاپان میں یہ تراسی برس جبکہ افغانستان اور زمبابوے میں اس کے قریباً نصف یعنی بیالیس برس ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شرحِ حیات بیسویں صدی کے وسط سے مستحکم ہے اور اس کی وجہ معیارِ زندگی کا بلند ہونا اور معتدی بیماریوں کا خاتمہ ہے۔
بہت سے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی شرح اموات میں کمی اور بہتر طبی سہولیات کی وجہ سے شرحِ حیات بہتر ہوئی ہے تاہم صحرائے صحارا کے خطے کے کچھ ممالک ایچ آئی وی اور ایڈز سے بری طرح متاثر ہیں۔

<link type="page"><caption> تعارف: انتہاوں کی دنیا</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/11/101130_extreme_world_intro.shtml" platform="highweb"/></link>
ماہرین کے مطابق لوگوں کے طویل عرصے تک جینے کا رجحان جاری رہے گا اور لوگوں کا سو سال یا اس سے زیادہ عمر پانا عام ہو جائے گا۔ اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق سنہ 2050 تک دنیا کی آبادی میں بائیس لاکھ افراد ایسے ہوں گے جن کی عمر سو برس یا اس زائد ہوگی۔
جاپان میں دنیا کے سب سے زیادہ معمر افراد پائے جاتے ہیں۔ وہاں کی آبادی کا بیس فیصد پینسٹھ سال سے زائد عمر کا ہے جبکہ ستمبر 2010 میں جاپان میں سو سال سے زائد عمر کے چوالیس ہزار چار سو انچاس افراد موجود تھے۔
سنہ 2010 میں اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی جانب سے پیش کیے گئے جائزے میں آخری ایام میں بہترین زندگی گزرانے کے لیے برطانیہ کو بہترین ملک چنا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس جائزے میں چالیس ممالک میں شرحِ حیات اور صحت عامہ کی سہولیات پر ہونے والے اخراجات سمیت عام لوگوں میں قریب المرگ افراد کی دیکھ بھال کے بارے میں آگاہی سمیت کئی عوامل کا جائزہ لیا گیا اور اس کے مطابق بزرگ افراد کے لیے بھارت سب سے برا ملک ہے۔
اکانومسٹ انٹیلیجنس یونٹ کی رپورٹ کے مطابق حکومتوں اور آخری ایام میں سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو درپیش ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ تیزی سے بوڑھی ہوتی آبادی کو صحتِ عامہ کی بہتر سہولیات کیسے فراہم کریں۔



















