ہم جنسوں پر پابندی ختم کرنے کی سفارش

- مصنف, زبیر احمد
- عہدہ, بی بی سی واشنگٹن، امریکہ
- وقت اشاعت
امریکی وزارت دفاع کی ایک حالیہ رپورٹ نے امریکی افواج میں ہم جنس تعلقات رکھنے والوں فوجیوں کے خلاف پابندی کو ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے بھی امریکی سینیٹ سے اس پابندی کو اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ لیکن یہ ایک متنازع معاملہ ہے اور ملک اس میں متحد نہیں ہے۔ ریپبلکن پارٹی اور اسکے اراکین اس قانون کو فی الحال ختم کرنے کے خلاف ہیں۔
امریکہ میں انیس سو ترانوے میں سابق صدر بل کلنٹن نے ریپبلکن پارٹی اور خود ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کے دباؤ میں آکر بیچ کا راستہ اپناتے ہوئے اس قانون کو منظوری دے دی تھی۔
اس قانون کے تحت کھلے طور پر ہم جنس مرد اور عورتوں پر امریکی افواج میں بھرتی ہونے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اسے یہاں ’ڈونٹ آسک ڈونٹ ٹل‘ یعنی نہ پوچھو نہ بتاؤ کہتے ہیں یعنی اگر کوئی ہم جنس شخص فوج میں ملازمت کرنا چاہتا ہے تو اسے یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ساتھ ہی فوج بھی زبردستی اس شخص کی جنسیت ظاہر کرنے پر اصرار نہیں کر سکتی۔
لیکن فوج میں بھرتی ہونے کے بعد ہم جنسیت کو ظاہر کرنے پر اسے فوراً فوج سے برخاست کر دیا جاتا ہے جیسا کہ میجر مائیک عالمی کے ساتھ ہوا۔
چار برس قبل میجر مائیک عالمی عراق میں امریکہ کے اعزاز یافتہ فوجی افسران میں سے ایک تھے۔ لیکن جب انہوں نے ہم جنس پرست یا گے ہونے کا انکشاف کیا تو امریکی قانون کے مطابق انھیں فوج سے نکال دیا گیا۔ چار سال بعد بھی وہ فوج میں واپس ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

’اس قانون کے تحت جس طرح سے ہمارے ساتھ بدسلوکی کی گئی اس سے ہمارے ساتھی حیران ہو گئے۔ وہ اس قانون کو ختم کرنے کے حق میں ہیں۔ ہماری جدوجہد میں وہ ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کی میں ایک افسر کی حیثیت سے فوج میں پھر سے بحال کر دیا جاؤں۔‘
لیکن امریکی فوج میں ان کی واپسی اسی وقت ممکن ہے جب امریکی سینیٹ اس قانون کو خارج کرنے کی حمایت کرے۔ ایوان زرین اسے پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔ امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اس قانون کو خارج کرنے کی بھرپور حمایت کرتے ہیں لیکن ان کی ریپبلکن پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پچھلے ہفتے وزارت دفاع نے فوجیوں سے باتیں کرکے ایک رپورٹ جاری کی جس میں یہ انکشاف ہوا کے دو تہائی فوجی ہم جنسوں کے خلاف نہیں ہیں۔ مسٹر گیٹس نے اس رپورٹ کو جاری کرتے ہوئے کہا: ’اگر اس قانون کو خارج کر دیا گیا تو میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کے اس کے جنگ میں لڑنے والے فوجیوں کے ڈسپلن اور صلاحیت پر کوئی منفی اثرات نہیں ہونگے۔‘
لیکن ریپبلکن پارٹی اس دلیل کو نہیں مانتی. پارٹی کے ایک سینئر رہنما جان مکین نے ایک تحریری بیان میں اسے اس وقت تک ختم نہیں کرنے کی اپیل کی جب تک امریکی فوجی افغانستان اور عراق میں جنگ میں ملوث ہوں۔ چوبیس سالہ ایلزبتھ شرلی نے قسم کھائی ہے کے وہ اس وقت تک امریکی فوج میں شامل نہیں ہونگی جب تک کی یہ قانون بدل نہ دیا جائے۔
’میں نے خود سے وعدہ کیا ہے کی میں اس قانون کے تحت فوج میں ملازمت نہیں کروں گی۔ میرے اس فیصلے کی وجہ یہ ہے کی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے فوج کی وفاداری کا حلف لینا پڑتا ہے اور اس قانون کے تحت آپ ہم جنسیت کو ظاہر نہیں کر سکتے۔ اسی لیے میں انتظار کر رہی ہوں کی ہم جنس تعلقات رکھنے والوں کے خلاف پابندی اٹھا لینے کے بعد ہم فوج میں ملازمت کے لئے عرضی دیں گے۔‘
امریکی صدر براک اباما نے دو سال پہلے انتخابی مہم کے دوران اس قانون کو ہٹانے کا وعدہ کیا تھا۔ بل کلنٹن کی طرح مسٹر اباما بھی ہم جنس یا گے لوگوں کے خلاف امتیازی سلوک کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن کیا مسٹر کلنٹن کی طرح انھیں بھی کوئ سمجھوتہ کرنا پڑ سکتا ہے؟ امریکی معاشرے میں مذہب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے وہ گے اور ہم جنس پرستی کے خلاف ہیں صدر اباما کو ان باتوں کا بھی خیال رکھنا پڑےگا۔



















