چین: نوبل انعام تقریب سے قبل ’گرفتاریاں‘

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ چین نے جمعہ کو اوسلو میں نوبل امن انعام دینے کی تقریب سے پہلے کم سے کم بیس کارکنوں کوگرفتار کر لیا ہے۔
اس برس امن کا نوبل انعام چین کے جمہوریت پسند کارکن لیو شاؤبو کو دیا جا رہا جو اس وقت چینی جیل میں قید ہیں۔ انہیں امن و امان تباہ کرنے کے جرم میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں امن انعام دینے کی تقریب میں شاؤبو کی کرسی خالی رکھی جائے گی
چین کا کہنا ہے کہ نوبل انعام دینے والی کمیٹی نے مغربی ممالک کے مقاصد پورے کرنے کے لیے ایک مجرم کا انتخاب کیا ہے جبکہ نوبل انعام کمیٹی کے مطابق اس انعام کو چین کے خلاف ایک قدم کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق جہاں اب تک لیوشاؤبو کے بیس حامیوں کی گرفتاری کی اطلاع ہے وہیں مزید ایک سو بیس افراد کو یا تو نظر بندی کا سامنا ہے یا ان کے سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ چینی حکام نے لیوشاؤبو کی اہلیہ لیوزیا کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا ہے جبکہ دیگر منحرف اور جمہوریت پسند کارکنوں کو بھی حکام کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

چین کے حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق ان میں سے کچھ افراد کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ کچھ افراد کو ان کے گھروں سے آئندہ کچھ دنوں کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ ہونے والوں میں ژانگ زوہوا بھی شامل ہیں جنہوں نے لیوشاؤبو کے ساتھ ملک کر چارٹر 08 نامی سیاسی منشور تیار کیا تھا۔
چین نہیں چاہتا کہ کوئی بھی شخص چین سے یہ انعام وصول کرنے کے لیے ناروے جائے اور یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چین نے بی بی سی سمیت مختلف غیر ملکی ذرائع ابلاغ تک رسائی پر بھی پابندی لگا دی ہے۔
اس سال تقریب میں مدعو کیے گئے ممالک میں سے تقریباً ایک تہائی چین کی ناراضگی کے ڈر سے اس میں شریک نہیں ہوں گے۔ چین نے ان ممالک سے کہا تھا کہ تقریب میں شرکت کی صورت میں وہ ان کے خلاف اقدامات کرے گا۔ چین کی جانب سے یورپی کمیشن کو لکھے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ آپ کے ملک چین کے خلاف ہونے والی کسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار مائیک وولرج کا کہنا ہے کہ اس برس نوبل امن انعام پر سیاست کا جو گہرا پردہ پڑا ہے وہ اس تقریب کو گہنا دے گا۔



















