امریکی گورنر شمالی کوریا کے دورے پر

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے گورنر بل رچرڈسن کوریائی خطے میں تناؤ کم کرنے کی غرض سے شمالی کوریا کا غیر سرکاری سفارتی دورہ کر رہے ہیں۔
بل رچرڈسن کا جو حالیہ برسوں میں کئی بار شمالی کوریا جا چکے ہیں، کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ وہ شمالی کوریا کو سمجھانے بجھانے میں کامیاب رہیں گے۔
شمالی کوریا کی جانب سے جنوبی کوریا کے جزیرے پر گولہ باری کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔
اور اب یہ خدشات بھی سر اٹھانے لگے ہیں کہ شمالی کوریا نے اپنی جوہری سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے پاس یورینیم افزودہ کرنے کا کم از کم ایک اور کارخانہ ہے جو کہ اس کارخانے کے علاوہ ہے جس کا دورہ گزشتہ ماہ امریکی ماہرین کو کروایا گیا تھا۔
شمالی کوریا اب تک دو جوہری دھماکے کر چکا ہے اور یہ مانا جاتا ہے کہ اس کے پاس چھ جوہری بم بنانے کے لیے درکار پلوٹونیم موجود ہے۔
بل رچرڈسن کو شمالی کوریا کے دورے کی دعوت چھ جماعتی جوہری مذاکرات میں شمالی کوریا کے مرکزی مذاکرات کار کم گیوان نے دی ہے تاہم امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق وہ شمالی کوریا کو صدر اوباما کا کوئی پیغام نہیں پہنچائیں گے۔
اس دورے پر روانہ ہونے سے قبل بل رچرڈسن نے کہا کہ وہ واپس آ کر امریکی حکام سے رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میرے دورے کا مقصد یہ ہے کہ شمالی کوریا سمجھا بجھا کر اس کے اشتعال میں کمی لائی جائے اور دیکھیں شاید اس سے جزیرہ نما کوریا میں تناؤ میں کمی آ سکے‘۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رچرڈسن کو دورے کی دعوت امریکہ کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات سے انکار پر شمالی کوریا کی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شمالی کوریا اور اس کا حلیف چین چھ جماعتی جوہری مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جبکہ امریکہ اور جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے ’اشتعال انگیز‘ رویے میں تبدیلی اور جوہری سرگرمیوں میں کمی تک ایسا ممکن نہیں۔



















