ایوارڈ یافتہ ایرانی فلمساز کو سزا

وقت اشاعت

بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ایرانی فلمساز جعفر پناہی کو مبینہ طور پر قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں چھ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

چھ برس قید کی سزا کے علاوہ جعفر پناہی کی تمام فلمی سرگرمیوں پر بیس برس تک پابندی لگا دی گئی ہے اور اس مدت کے دوران وہ میڈیا سے بھی کوئی رابطہ نہیں کرسکیں گے۔

جعفر پناہی ایرانی حکومت پر کھل کر تنقید کرنے کے حوالے سے پہنچانے جاتے ہیں۔

انچاس سالہ جعفر پناہی کو 2009 میں متنازعہ انتخابات کے بعد مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے سوگ کے جلوس میں حصہ لینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے فوری بعد انہیں رہا کر دیا گیا لیکن ساتھ ساتھ ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی۔

اس کے بعد فروری 2010 میں انھیں ان کے خاندان اور دوسرے رفقاء کے ہمراہ دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

جعفر پناہی نے اپنی فلموں میں ایرانی معاشرے کی جس طرح عکاسی کی ہے اُس پر انھیں بین الاقوامی سطح پر کئی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے تاہم اُن کی زیادہ تر فلموں کی ایران میں نمائش پر پابندی عائد ہے۔

مسٹر پناہی کو ماضی میں وینس فلم فیسٹول کے موقع پر گولڈن لائن ایوارڈ مل چکا ہے۔

ان کی فلم ’آف سائیڈ‘ پر انہیں سن دو ہزار چھ میں برلن فلم فیسٹول میں سلور بیئر ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔