’قدیر کے ساتھیوں‘ کے خلاف مقدمے کا حکم

سوئس شہریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کو گیس سینٹی فیوج بنانے کے لیے حساس آلات فراہم کیے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنسوئس شہریوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کو گیس سینٹی فیوج بنانے کے لیے حساس آلات فراہم کیے ہیں۔
وقت اشاعت

سوئٹزرلینڈ میں مجسٹریٹ کی ایک عدالت نے تین سوئس انجینئروں کے خلاف جوہری سمگلنگ کے الزام میں کیس درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کو جوہری ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔

ان کے خلاف کیس درج کرنے کا حکم سوئٹزرلینڈ کے تفتیشی مجسٹریٹ اینڈریاس مولر نے جمعرات کے روز دیا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق مجسٹریٹ نے اپنی خفیہ رپورٹ فیڈرل پراسیکیوٹرز کو فراہم کی ہے جو اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ انجینئروں کے خلاف سوئس جوہری عدم پھیلاؤ کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔

اگرچہ جوہری سمگلنگ کے سلسلے میں تحقیقات چھ سال پہلے شروع کی گئی تھیں لیکن میجسٹریٹ اینڈریاس مولر گزشتہ تین سال سے ان تحقیقات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اس سیاسی طور پر حساس مقدمے میں کارروائی اس وقت سست روی کا شکار ہو گئی تھی جب سوئس حکومت نے مبینہ امریکی دباؤ کے تحت شہادتیں ضائع کرنا شروع کر دی تھی۔

انجینئر ارس ٹِنر، ان کے بھائی مارکو اور والد فریڈرک پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک کو گیس سینٹی فیوج بنانے کے لیے حساس سائنسی معلومات اور آلات فراہم کیے ہیں۔

ڈاکٹر قدیر خان مبینہ طور پر یہ سینٹی فیوج لیبیا اور ایران سمیت دیگر ملکوں کے خفیہ جوہری پروگرام کے لیے فراہم کرتے رہے اور یہ سلسلہ سن دو ہزار تین میں اس وقت تک جاری رہا جب یہ نیٹ ورک منظر عام پر آیا۔

میجسٹریٹ مولر نے سوئس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس نے ان کے مطابق انصاف کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہوئے تقریباً تمام شواہد ضائع کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے وفاقی پولیس کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ ان سے تعاون نہ کرے۔

اس اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجریٹ مولر نے کہا کہ ’اس کے کئی حصے ہیں۔ یہ ایک پزل کی طرح ہے اور اس کی مکمل تصویر تبھی سامنے آتی ہے جب تمام ٹکڑوں کو اکٹھا رکھا جائے۔‘