’امداد کو اقلیتوں سے مشروط کیا جائے‘

دھماکہ کی فوٹو
،تصویر کا کیپشنپہلی جنوری کو ہونے والے دھماکے میں اکیس افراد ہلاک ہوئے تھے
وقت اشاعت

جرمنی میں حکمراں اتحاد کے ایک سینئیر رکن نے کہا ہے کہ جو ممالک عیسائیوں پر ظلم ہونے دیتے ہیں ا نکو دی جانے والی امداد میں کمی کی جائے۔

سٹیفن ملر نے یہ بیان مصر میں پہلی جنوری کو ایک چرچ کے باہر ہونے والے دھماکے کے تناظر میں دیا ہے۔ اس دھماکے میں اکیس افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہوگئے تھے۔

یہ دھماکہ سال نو کی پہلی عبادت کے بعد رات کے ساڑھے بارہ بجے اس وقت ہوا تھا جب القدیسین چرچ میں کاپٹک عیسائی چرچ سے باہر آ رہے تھے۔

جرمنی میں حزب اختلاف کی جماعت گرین پارٹی نے بھی کہا ہے کہ امداد کو مذہبی اقلیتوں سے روا رکھے جانے والے رویہ سے مشروط کیا جانا چاہیے۔حالانکہ حکمراں جماعت کرشچن ڈیمکوکریٹس کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ بات چیت اور باہمی تعاون سے ہی مذہبی میل جھول کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اسکندریہ میں چرچ کے باہر دھماکے کے بعد مصر کے صدر حسنی مبارک نے ملک کے عیسائیوں اور مسلمانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ چرچ کے باہر دھماکے کے بعد دہشتگردی کے خلاف متحد ہو جائیں۔

دھماکے کے چند گھنٹے بعد ہی ٹیلی وثرن پر اپنے خطاب میں حسنی مبارک نے کہا تھا کہ اس کارروائی میں کسی’ غیر ملکی طاقت کا ہاتھ‘ نظر نہیں آتا ہے جس کا مقصد مصر کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

ادھر امریکی صدر براک اوباما نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کا نشانہ عیسائیوں کو بنایا گیا تھا۔

اسکندریہ مصر کا دوسرا بڑا شہر ہے اور چالیس لاکھ کی آبادی کے اس شہر میں ماضی میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد عیسائیوں کےمشتعل ہجوم نے نزدیکی مسجد میں گھس کر اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کو سنھبال لیا۔

مصر میں کوپٹک عیسائی ملکی آبادی کا دس فیصد ہیں اور حالیہ عرصے میں عیسائیوں اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھی ہے۔