چین کے سٹیلتھ طیارے کی آزمائشی پرواز

اس طیارے کی پندرہ منٹ کی آزمائشی پرواز کی تصاویر کئی چینی ویب سائٹس پر شائع کی گئی ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس طیارے کی پندرہ منٹ کی آزمائشی پرواز کی تصاویر کئی چینی ویب سائٹس پر شائع کی گئی ہیں۔
وقت اشاعت

چین نے ریڈار پر نظر نہ آنے والے اپنے اس سٹیلتھ فائٹر یا ’خفیہ جہاز‘ کی آزمائشی پرواز کی ہے جس کی تصاویر حال ہی میں جاری کی گئی تھیں۔

امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ سٹیلتھ فائٹر کی آزمائشی پرواز کی تصدیق چین کے صدر ہو جینتاؤ نے بیجنگ میں ان سے ایک ملاقات کے دوران کی۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس جیٹ طیارے کو ہر طرح کی کارروائی کے قابل ہونے میں ابھی کئی برس لگیں گے۔ لیکن اس طیارے کی آزمائشی پرواز سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ فوجی ٹیکنالوجی تیار کرنے کے لیے چین کس طرح بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

اس طیارے کی پندرہ منٹ کی آزمائشی پرواز کی تصاویر کئی چینی ویب سائٹس پر شائع کی گئی ہیں۔

چینی صدر نے کہا کہ اس طیارے کی پرواز کا وقت، امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس کی آمد کے ساتھ ارادتاً نہیں رکھا گیا تھا۔

اس وقت امریکہ وہ واحد ملک ہے جس کے پاس سٹیلتھ طیارہ ہے اور کسی بھی کارروائی میں حصہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روس اور چین دونوں ہی اس جہاز کے ابتدائی ماڈلوں پر کام کر رہے ہیں۔

رابرٹ گیٹس کا تین روزہ دورۂ چین ایسے وقت ہو رہا ہے جب امریکہ کو چین کے اپنی ٹیکنالوجی کو جدید کرنے اور بہتر بنانے کی رفتار پر تشویش ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ان کے پوچھنے پر چینی صدر نے بتایا کہ جہاز کی پرواز پہلے سے طے تھی۔

غیر سرکاری چینی ویب سائٹس پر شائع ہونے والے عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق منگل کو اس جہاز نے پندرہ منٹ تک پرواز کی۔اس پرواز کی ایک وڈیو بھی ایک ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اسے توقع ہے کہ یہ طیارہ سنہ دو ہزار سترہ سے دو ہزار انیس کے درمیان مکمل طور پر ہر طرح کی کارروائی کے لیے تیار ہوگا۔

سنہ انیس سو ننانوے سے دو ہزار نو کے درمیان چین کا فوجی بجٹ چار گنا بڑھا ہے۔ سنہ دو ہزار دس میں یہ بجٹ اٹھہتر بلین ڈالر تھا۔