نوبیل انعام یافتہ معیشت دان کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ

گرامین بینک کے بانی محمد یونس نے جو مائکرو فنانسنگ کی پالیسی کے باعث جانے جاتے ہیں، اپنے خلاف ہتکِ عزت کے دعوے کے دفاع میں بنگلہ دیش کی ایک عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔
محمد یونس پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ دو ہزار سات میں اپنے ایک میڈیا انٹرویو میں بنگلہ دیشی سیاست دانوں کے بارے میں مختلف باتیں کہی تھیں (جو سیاست دانوں کی مبینہ بدنامی کا سبب بنیں)۔
امن کے نوبیل انعام کے حامل محمد یونس کے بارے میں خبر رساں اداے اے ایف پی کے حوالے سے کہا گیا کہ ’بنگلہ دیش کے سیاست دان صرف پیسے کے لیے کام کرتے ہیں۔‘
گرامین بینک کے بانی کے خلاف مقدمہ ایک مقامی سیاست دان نے دائر کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ محمد یونس کے کلمات سے وہ بدنام ہوئے ہیں۔
سنہ دو ہزار سات میں اے ایف پی کے ساتھ پرفیسر یونس کا انٹرویو کئی اخبارات میں شائع ہوا تھا۔
منگل کو گرامین بینک کے بانی کو پانچ ہزار بنگلہ دیشی ٹکوں (تقریباً اسی امریکی ڈالر بنتے ہیں) کے عوض ضمانت مل گئی۔ وہ عدالت میں دس منٹ کے لیے پیش ہوئے۔
عدالتی انسپکٹر شاہد شوق رانا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں آئندہ سماعتوں پر پیشی کی ضرورت نہیں ہوگی۔ عدالت نے کہا ہے کہ مستقبل میں محمد یونس کا نمائندہ عدالت میں پیش ہو جائے۔
مقدمے کی سماعت اب بیس فروری کو ہوگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پروفیسر یونس کے وکیل اے ایچ ایم خلیق الزمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہم نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ میرے مؤکل کو آئندہ سماعتوں میں پیشی سے مستثنیٰ کیا جائے کیونکہ وہ جانی پہچانی شخصیت ہیں اور انھیں بہت زیادہ سفر کرنا ہوتا ہے۔‘



















