حریری قتل:فرد جرم عائد،اوباما کا خیرمقدم

امریکہ کے صدر براک اوباما نے لبنان کے وزیراعظم رفیق حریری کے قتل میں ملوث افراد پر فرد جرم عائد کرنے کے عمل کو خوش آئند قرار دیا ہے۔
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ رفیق حریری کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے سے لبنان میں سزا نہ دینے کی روایت ختم ہوگی۔
اس سے قبل رفیق حریری کے قتل کی تحقیق کرنے والے اقوام متحدہ کے ٹریبونل نے کہا تھا کہ استغاثہ نے قتل میں ملوث افراد پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ٹریبونل نے یہ بھی کہا ہے کہ فرد جرم عائد کیے جانے سے متعلق تمام معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا اور قتل میں ملوث افراد کے نام بھی صیغۂ راز میں رکھے جائیں گے۔
امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ٹریبونل کو بغیر کسی روک ٹوک کے کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور یہ اقدامات انصاف کے حصول میں لبنانی عوام کے لیے مددگار ثابت ہوں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ لبنانی عوام کے لیے اہم اور جذباتی وقت ہے اور ہم عالمی برادری کے ہمراہ تمام لبنانی رہنماؤں اور گروپوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حالات کو پرسکون رہنے دیں اور محتاط رویے کا مظاہرہ کریں‘۔
رفیق حریری سنہ دو ہزار پانچ میں بائیس دیگر افراد کے ہمراہ بیروت میں ایک بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کا الزام پہلے شام پر لگا تھا لیکن گزشتہ برس سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے کچھ ممبران اس قتل کے مرکزی ملزمان کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
حزب اللہ نے ہمیشہ رفیق حریری کے قتل کے الزام کو مسترد کیا ہے اور اس کا موقف ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے تنظیم کو بدنام کرنے کے لیے اقوام متحدہ کا تحقیقاتی ٹریبونل بنوایا ہے۔

حزب اللہ نے لبنان کی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ٹریبونل کے ساتھ ہر قسم کا تعاون روک دے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اللہ نے پچھلے ہفتے لبنان کی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کی وجہ رفیق حریری کے بیٹے سعد حریری کی حکومت ختم ہوگئی اور وہ اب لبنان کے قائم مقام وزیر اعظم ہیں۔
لبنان میں حکومت کے خاتمے پر امريکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ حزب اللہ نے حکومت کو گرا کر اپنے اس ارادے کا اظہار کيا ہے کہ وہ حکومت کو چلنے نہیں ديں گے جبکہ حزب اللہ اور اس کے اتحادیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ مخلوط حکومت کو قائم رکھنے کے لیے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔



















