حقوقِ انسانی پر بہت کچھ کرنا باقی ہے:چین

چین کی پرامن ترقی میں امریکہ کے لیے بہتری کا پیغام ہے:اوباما
،تصویر کا کیپشنچین کی پرامن ترقی میں امریکہ کے لیے بہتری کا پیغام ہے:اوباما
وقت اشاعت

چین کے صدر ہو جنتاؤ نے تسلیم کیا ہے کہ حقوقِ انسانی کی صورتحال کے حوالے سے چین میں ’ابھی بہت کیا جانا باقی ہے‘۔

انہوں نے یہ بات اپنے چار روزہ دورۂ امریکہ کے دوران وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر براک اوباما کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

حقوقِ انسانی کے سلسلے میں چین کے ریکارڈ سے متعلق سوال پر چینی صدر نے کہا کہ چین نے اس سلسلے میں بہت کام کیا ہے اور دنیا اس کی شاہد ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر نے کہا کہ چین کی پرامن ترقی میں امریکہ کے لیے بہتری کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ کے مفاد میں ہے کہ کروڑوں افراد کو غربت کی دلدل سے نکال لیا جائے۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ اور چین کی کامیابی سے دونوں ممالک کے بہت بڑے مفادات وابستہ ہیں اور دونوں ممالک اگر مل کر کام کریں تو زیادہ خوشحال اور محفوظ ہو سکتے ہیں۔

چین کے صدر نے کہا کہ تعاون باہمی احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی ترقی کی راہوں کا احترام بھی کرنا چاہیے۔

کرنسی کی قدر پر کنٹرول، تجارتی عدم توازن اور چین میں حقوقِ انسانی کی صورتحال کے معاملے پر چین اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اور بدھ کو وائٹ ہاؤس میں دونوں صدور کی ملاقات میں بھی یہی معاملات زیرِ بحث رہے۔

امریکی حکام کے مطابق چین اور امریکہ نے پنتالیس ارب ڈالر کے ایک برآمدی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے میں چین کی جانب سے انیس ارب ڈالر مالیت کے دو سو بوئنگ طیاروں کی خریداری بھی شامل ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کا کہنا ہے ان تجارتی معاہدوں کے نتیجے میں امریکہ میں دو لاکھ سے زائد ملازمتیں پیدا ہوں گی۔

براک اوباما نے کہا کہ حقوقِ انسانی کے معاملات پر اختلافات امریکہ اور چین کے درمیان ’کبھی کبھار تناؤ کی وجہ‘ بنتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’میرا ماننا ہے کہ حقوقِ انسانی اور انصاف کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ لوگ جی سکیں، ان کے پاس خوراک اور سر چھپانے کی جگہ ہو‘۔

چینی اور امریکی صدور کی ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ ہوا
،تصویر کا کیپشنچینی اور امریکی صدور کی ملاقات کے موقع پر وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ ہوا

امریکی صدر نے کہا کہ ’ہم چین کے حقوق کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ چین کی ترقی ایسے ہو کہ اس وہ بین الاقوامی قوانین اور رواج کے مطابق ہو اور اس سے علاقائی تحفظ اور امن میں اضافہ ہو نہ کہ وہ اس خطے یا دنیا بھر میں تنازعے کی وجہ بن جائے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں اقوام (امریکہ اور چین) ان معاملات پر اختلاف رکھتی ہیں لیکن یہ اختلاف انہیں دیگر اہم معاملات پر تعاون سے نہیں روکتا ہے۔

چینی صدر نے کہا کہ ان کا ملک حقوقِ انسانی کے معاملے پر بات چیت جاری رکھنے کو تیار ہے بشرطیکہ اس بات چیت کی بنیاد باہمی احترام اور چین کے داخلی امور میں عدم مداخلت پر ہو۔

ہوجنتاؤ کا کہنا تھا کہ ’چین ایک زیادہ آبادی والا ایسا ترقی پذیر ملک ہے جہاں اصلاح کا عمل انتہائی اہم مرحلے میں ہے‘۔ انہوں نے یہ بھی کہنا کہ چین کو ’معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے کئی مشکلات کا سامنا ہے اور چین میں حقوقِ انسانی کے سلسلے میں بہت کام ہونا باقی ہے‘۔

خیال رہے کہ چین کی بڑھتی ہوئی عسکری، معاشی اور سفارتی قوت کے تناظر میں چینی صدر کے اس دورۂ امریکہ کوگزشتہ تین دہائیوں میں کسی بھی چینی رہنما کا اہم ترین دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے صدر ہوجنتاؤ کے دورۂ امریکہ کو ’ایک اہم دورہ‘ قرار دیا ہے۔ چینی ترجمان کے مطابق ’ہمیں امید ہے کہ اس دورے سے چین اور امریکہ کے مثبت اور تعاون پر مبنی تعلقات کا پرچار ہوگا اور یہ دورہ نئے دور میں باہمی تعلقات کی نئی سمت طے کرے گا اور تعاون کو ایک نئی سطح تک پہنچا دے گا‘۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق امریکہ کو سب سے زیاد پریشانی چین کی کرنسی کی پالیسی سے ہے اور بعض امریکی ارکان کانگریس نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کی اگر چین نے اپنی کرنسی کی قدر پر کنٹرول جاری رکھتا ہے اور اسے بڑھنے نہ دیتا تو امریکی کانگریس کو چین کے خلاف ایک قانون بنانا چاہیے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی عدم توازن بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ فی الحال یہ توازن چین کے حق میں ہے یعنی چین امریکہ کو زیادہ سامان بیچتا ہے لیکن امریکہ سے کم سامان خریدتا ہے۔ امریکہ جہاں چین کو سالانہ اکیاسی ارب اسی کروڑ ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے وہیں چین سے امریکہ برآمدات کا حجم تین سو چوالیس ارب ڈالر سے زائد ہے۔