’طالبان کو زیادہ مدد پاکستان سے مل رہی ہے‘

    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند میں اتحادی افواج کے اعلی کمانڈر میجنر جنرل رچرڈ پی ملز کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے طالبان کے لیے زیادہ مدد پاکستان سے ہی آ رہی ہے اور دیگر ممالک کے جنگجو میدان جنگ میں نہیں دیکھے گئے ہیں۔

بی بی سی اردوس سروس کے ساتھ ٹیلیفون/ ویڈیو کے ذریعے ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل ملز کا کہنا تھا کہ پاکستانی سرحد ایک مشکل مسئلہ ہے۔ ’ہم مزاحمت کاروں کے لیے زیادہ مدد پاکستان سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے دنیا کے دیگر خطوں سے جنگجو نہیں دیکھے ہیں۔ ہم تاہم پاکستان فوج کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف کامیاب کارروائیاں کر رہے ہیں تاکہ وہ واپس نہ لوٹ سکیں۔ ان کی سرحد پار کرنے کی صلاحیت ختم کی جاسکے۔ انہیں کوئٹہ جیسی جگہ میں میں چھپنے نہ دیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مزاحمت کار یقینا محفوظ مقام پر چُھپنا چاہیں گے لیکن حکومت پاکستان نے مصمم ارادہ کیا ہے کہ وہ انھیں یہ پناہ گاہ مہیا نہیں کرے گی جہاں وہ سستا سکیں اور مدد حاصل کرسکیں۔ ’مزاحمت کار نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کا بھی مسئلہ ہے۔ انہوں نے اسلام آباد جیسے مقامات پر حملے کیے ہیں اور ہوٹل اور گلیوں میں دھماکے کیے ہیں۔ وہ پاکستان کے دوست نہیں ہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں کہ حقانی اور القاعدہ کی ہلمند میں موجودگی کس حد تک ہے، رچرڈ پی ملز کا کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے لوگوں کی موجودگی کی چند رپورٹس ضرور ملی ہیں لیکن اس بارے میں انہیں کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں۔ ’یہاں کے باغیوں کو بین الاقوامی دہشت گردوں کی مدد حاصل ہے۔ وہ منشیات اور دیگر گروہوں کے ساتھ منسلک ہیں۔‘

امریکی میرنز فورس سے تعلق رکھنے والے جنرل ملز نے گزشتہ برس ہلمند کا چارج اس وقت سنبھالا تھا جب سابق امریکی فوجی سربراہ جنرل میکرسٹل نے ہلمند کو ایک ناسور قرار دیا تھا۔ ان کے پاس تقریبا آٹھ ہزار برطانوی جبکہ بیس ہزار امریکی فوجی ہیں۔ جنرل ملز کا کہنا تھا کہ ہلمند میں مزاحمت کاروں کو عالمی مدد ضرور مل رہی ہے۔ ’وہ چھپ کر ہدایات دیتے ہیں لیکن ان میں سامنے آنے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘

پاکستان اور ایران کے ساتھ سرحد کا ذکر کرتے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تمام ہمسایوں کے ساتھ سرحد پر غیرقانونی آمد ورفت کو روکنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سرحد کو سیل کرنا ہوگا یا پھر انہیں کنٹرول میں لانا ہوگا۔ ’وہ مشکل پہاڑی علاقے ہیں جہاں وہ روپوش ہوسکتے ہیں۔ ہم ابھی تک ان علاقوں تک نہیں پہنچ سکیں ہیں لیکن ہم جلد پہنچ جائیں گے۔‘

میجر جنرل رچرڈ ملز نے کہا ہے کہ ہلمند میں گزشتہ سات سے آٹھ ماہ کے دوران صورتحال رفتہ رفتہ بہتر ہو رہی ہے۔ ’صوبہ ہلمند میں کارروائی کے بعد تمام علاقے اب ان کے کنڑول میں ہیں اور مقامی لوگوں نے طالبان کو مسترد کر دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ علاقے طالبان کے لیے بہت اہمیت کے حامل تھے تاہم وہاں ان کی واپسی کو اب ناممکن بنا دیا گیا ہے۔

امریکی کمانڈر کے مطابق مارجہ کی جنگ ختم ہو چکی ہے اور وہاں صورتحال اب معمول پر ہے اور کوئی قابل ذکر واقعات پیش نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی لوگ بھی تعاون کر رہے ہیں اور اس ضمن میں معلومات بھی فراہم کرتے ہیں۔

میجر جنرل رچرڈ ملز نے مزید کہا کہ طالبان واپس نہیں آسکتے ہیں کیونکہ مقامی لوگوں نے ان کو مسترد کر دیا ہے اور اس تبدیلی کی کئی وجوہات ہیں ان میں کامیاب فوجی کارروائی اور افغان سکیورٹی فورسز کی تعیناتی اور افغان حکومت کے ذریعے علاقے میں سکول اور ہسپتال تعمیر کرنے جیسے ترقیاتی کام شامل ہیں۔ ’وہ واپسی کی بھرپور کوشش کریں گے لیکن انھیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ شدت پسند ان سے تعداد میں بہت کم ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں میں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی تعداد باغیوں کے مقابلے میں زیادہ ہو کیونکہ یہ ایک جنگ ہے۔ ’جنگ میں سب چلتا ہے۔ مجھے جتنی فورس چاہیے ہوگی میں رکھوں گا اور جہاں تک مستقبل کی بات ہے۔ میرے خیال میں افغان فوج اور پولیس کی صلاحتیں بڑھی ہیں اور وہ امریکی فوج کی جگہ لیں گے اور وہ خود ان( شدت پسندوں) سے نمٹ سکیں گے۔‘

میجر جنرل رچرڈ ملز نے کہا کہ مزاحمت کاروں کو پہاڑوں اور ریگستانوں میں بھیج دیا ہے اور وہ علاقے میں بہت تعداد میں نظر آتے ہے جبکہ انھیں باہر سے بھی ماضی کی نسبت کم مدد مل رہی ہے۔’ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ان میں سے بہت سے اب واپس گھروں کو لوٹنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ انھیں احساس ہو گیا ہے۔‘