بیٹی سے زیادتی والے گھر کو مسمار کرنے کا فیصلہ

جوزف فریٹزل نے اس گھر کے تحہ خانے میں اپنی بیٹی کو چوبیس برس تک حراست میں رکھا
،تصویر کا کیپشنجوزف فریٹزل نے اس گھر کے تحہ خانے میں اپنی بیٹی کو چوبیس برس تک حراست میں رکھا
وقت اشاعت

آسٹریا کے شہر ایمشٹٹن کے میئر نے کہا ہے کہ اس گھر کو مسمار کر دیا جائے گا جہاں ایک درندہ صفت باپ نے چوبیس برس تک اپنی ہی بیٹی کو ایک تحہ خانے میں بند رکھ کر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور اس کے بطن سے سات بچے پیدا کیے۔

چوہتر سالہ جوزف فریٹزل کو دو ہزار نو میں عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

ایمشٹٹن کی شہری انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اس گھر کو جسے لوگ جنسی زیادتی کی نشانی سمجھتے ہیں، گرا دیا جانا چاہیے۔

میئر کا کہنا ہے کہ ان کو کوشش ہو گی کہ وہ اس گھر کو رات کی تاریکی میں گرائیں کیونکہ وہ اس گھناؤنے واقعے کی مزید تشہیر نہیں چاہتے۔

اپریل دو ہزار آٹھ میں جب جوزف فریٹزل کے جرائم سے پردہ اٹھا تو اس کے خاندان کے تمام افراد نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا اور اس کی بیوی سمیت اس گھر میں مقیم لوگ وہاں سے کسی اور مقام پر چلے گئے۔

جوزف فریٹزل کو بقیہ زندگی جیل میں گزار رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنجوزف فریٹزل کو بقیہ زندگی جیل میں گزار رہے ہیں

جوزف فریٹزل نے عدالت میں اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا اعتراف کر لیا تھا جس پر عدالت نے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ جوزف فریٹزل کی باقی ماندہ زندگی اب جیل میں ہی بسر ہو گی۔

مقدمے کی کارروائی کے دوران جوزف فریٹزل کے وکیل کا موقف تھا کہ ان کے موکل ایک بکھری ہوئے شخصیت ہیں لیکن ان کو ’جنسی درندہ‘ کہنا نامناسب ہے ۔ وکیل کا کہنا تھا کہ چوہتر سالہ جوزف اپنی بیٹی سے ’اپنے انداز‘ میں محبت کرتے تھے۔