تیونس کےسابق صدر کےعالمی وارنٹ جاری

زین العابدین بن علی
،تصویر کا کیپشنصدر زین العابدین بن علی اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب چلے گئے تھے
وقت اشاعت

تیونس نے ملک سے فرار ہونےوالے صدر کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے درخوست کی ہے کہ زین العابدین بن علی کو حراست میں لیا جائے ۔

تیونس کے وزیرِ انصاف الزہر القروي الشابی نے کہا ہے کہ زین العابدین بن علی کے خلاف ملک سے زرِمبادلہ اور جائیداد کی چوری کے الزام میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

زین العابدین بن علی تئیس سال تک تیونس کے اقتدار پر قابض رہنے کے بعد چودہ جنوری کو اس وقت ملک سے فرار ہوگئے تھے جب عوام نے بڑھتی ہوئی بے بیروزگاری اور کرپشن کے خلاف بغاوت کر دی۔ زین العابدین بن علی اپنے تمام اہل و عیال کے ہمراہ سعودی عرب چلےگئے تھے اور ایسے الزامات لگتے رہے ہیں ہیں کہ وہ اپنے ساتھ بڑی تعداد میں زرِ مبادلہ اور سونا لے گئے تھے۔

تیونس کے وزیر انصاف الزہر القروي الشابی نے کہا کہ تیونس نے انٹرپول سے کہا ہے کہ وہ بن علی کو حراست میں لیں۔

ملک میں صدر کے فرار کے بعد قومی حکومت کے قیام کے باوجود ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور مظاہرین سابق صدر کی ’باقیات‘ کو حکومت سے علیحدہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیر اعظم محمد غنوشی پر بھی دباؤ ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔

مظاہرین گزشتہ روز وزیر اعظم محمد غنوشی کے دفتر کے باہر جمع ہوگئےتھے اور پولیس نےمظاہرین کو منتشر کرنے کےلیے آنسوگیس کا استعمال کیا تھا۔مظاہرین محمد غنوشی کو ہٹانے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

دریں اثناء تیونس کے دو سیاسی رہنماؤں کو قید کر لیا گیا ہے جو مسٹر بن علی کے نزدیکی ساتھی بتائے جاتے ہیں۔خبروں کے مطابق سابق مشیر عبدالعزیز بن دھیا اور سابق وزیِر داخلہ عبداللہ قلال کو ان کےگھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔

زین العابدین بن علی نے سنہ انیس سو ستاسی میں اقتدار سنبھالا تھا۔ انھوں نے مظاہرے شروع ہونے کے بعد اعلان کیا تھا کہ وہ سال دو ہزار چودہ میں اقتدار چھوڑ دیں گے۔ تاہم مظاہرین کا، جن میں زیادہ نوجوان تھے، کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت اور تبدیلی کے لیے صدر کا جانا ضروری ہے۔