گوانتانامو کے سابق قیدیوں کی تنظیم

خلیج گوانتانامو کے امریکی حراستی مرکز کے سابق افغان قیدیوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ایک تنظیم بنانے کا اعلان کیا ہے جس کی سربراہی پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو سونپی گئی ہے۔
تنظیم کے قیام کا اعلان کابل میں ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں افغانستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سابق قیدیوں نے شرکت کی۔
ملا ضعیف کو سنہ دو ہزار ایک کے آخر میں اسلام آباد میں ان کی رہائشگا ہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں گوانتانامو میں قائم امریکی جیل میں دو ہزار پانچ تک رکھا گیا تھا۔
ملا ضعیف نے اجلاس کے بعد کابل سے ٹیلی فون پر بی بی سی کے طاہر خان کو بتایا کہ اس تنظیم کا مقصد اقوام متحدہ، امریکہ اور افغان حکمرانوں سے مطالبہ کرنا ہے کہ جینیوا کنونشن اور افغانستان کے آئین کے مطابق گوانتانامو سے افغان قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر امریکہ اور ان کے اتحادیوں کی فوجی کارروائی کے تقریباً دس سال پورے ہونے والے ہیں لیکن اب تک امریکہ کی جیلوں میں بڑی تعداد میں افغان باشندے قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی جیلوں میں بغیر قانونی کارروائی کے لوگوں کو رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
بیان میں افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملکی آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کر کے گوانتانامو جیل سے افغان قیدیوں کو رہائی دلا دے اور افغان شہریوں کا قانونی دفاع کریں۔
بیان میں امریکی حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ گوانتانامو میں دس سال سے قید افغان شہریوں کو جلد از جلد اپنے گھروں کو بھجوا دیں کیونکہ خدا نے ہر انسان کو آزادی دی ہے اور یہ آزادی چھیننا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
بیان کے مطابق گوانتانامو جیل سے جو قیدی رہا ہوئے ہیں انہیں معاشی مشکلات کا سامنا ہے، جس کے حل کے لیے اس تنظیم نے مختلف پروگرام بنائے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت سے بھی تعاون کی ضرورت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















