مصر، یمن میں مظاہرے جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
مصر میں حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے اعلان کے بعد سکیورٹی فورسز کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب مصری حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرت کے لیے تیار ہے تاہم مظاہرین سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
مصر میں گزشتہ منگل سےحکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جس کے بعد مظاہرے روکنے کی کوشش میں انٹر نیٹ اور ٹیلی فون پیغام رسانی میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالا جارہا ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مصر میں اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے مصر میں حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمین کی جانب سے جمعہ کو کیے جانے والے مظاہروں کی حمایت کے اعلان کے بعد یہ کارووائی کی گئی ہے۔
. ادھر جمعرات کو اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ جوہری توانائی کےعالمی ادارے کے سابق سربراہ محمد البرادئی، جو قاہرہ پہنچ گئے ہیں، وہ جمعہ کو ہونے والے مظاہرے میں شرکت کریں گے۔
جمعرات سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک سات افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
مصر میں جمعہ کو ہونے والے مظاہروں کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے یہ اب تک ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت مخالف مظاہرین کی جانب سے دیگر افراد کو انٹرنیٹ سائٹس کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا کہ وہ نمازِجمعہ کے بعد ان مظاہروں میں شریک ہوں۔ منتظمین دیگر افراد پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اِن مظاہروں میں پوری تیاری کے ساتھ شریک ہوں۔
مصری حکومت کی جانب سے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک، ٹوئٹر اور ٹیلی فون پیغام رسانی میں بڑے پیمانے پر خلل ڈالا جارہا ہے۔
قاہرہ میں انٹرنیٹ استعال کرنے والے صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ ’تھری جی‘ اور ایس ایم ایس پیغامات وصول نہیں ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ منگل کو قاہرہ میں صدر حسنی مبارک کے خلاف مظاہرے کے شرکاء اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کی ہلاک ہوگئے تھے۔
مصر میں امنِ عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر امریکہ نے زور دیا ہے کہ مصری حکومت ملک میں سیاسی اور معاشی اصلاحات لائے۔
امریکی وزیرِ خارجہ ہِیلری کلنٹن نے کہا ’ ہم تمام پارٹیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محتاط رہیں اور تشدد سے گریز کریں۔ اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی سمیت ہم مصری عوام کے تمام بنیادی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ مصری حکام سے ہماری اپیل ہے کہ پرامن مظاہروں کو مت روکیں اور سماجی ویب سائٹس سمیت زرائع ابلاغ میں رکاوٹ مت ڈالیں۔‘



















