بنگلہ دیش: بھکاریوں کے لیے بھیک الاؤنس

بنگلہ دیش کے شہر چٹاگانگ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھکاریوں کو کرکٹ کے عالمی کپ کے دوران سڑکوں سے دور رکھنے کے لیے انہیں یومیہ اجرت ادا کریں گے۔
اگلے ماہ بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھارت کی مشترکہ میزبانی میں کرکٹ کا عالمی کپ شروع ہو رہا ہے۔
اس خصوصی منصوبے کے تحت شہر میں تقریباً تین سو معذور بھکاریوں کو تین ماہ تک یومیہ دو امریکی ڈالر تک ادا کیے جائیں گے تا کہ وہ سڑکوں پر نہ آئیں۔
چٹاگانگ کے میئر منصور عالم کا کہنا ہے کہ بھکاریوں کو روزانہ ہونے والے مالی نقصان کی تلافی کے علاوہ انھیں بحالی کے مراکز میں منتقل ہونے کا موقع بھی دیا جائے گا۔
منصور عالم نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں بھکاریوں، نمائندوں اور آفیشل سے اگلے ہفتے ملاقات کریں گے تا کہ معذور بھکاریوں کی فہرست تیار کی جا سکے۔
’ہم نے بھکاریوں کی بحالی کا آغاز کیا ہے اور اس پر عالمی کپ سے پہلے تیزی سے عمل کریں گے تا کہ بھکاری ٹورنامنٹ کے دوران سیاحوں اور تماشائیوں کو تنگ نہ کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کے علاوہ ہم فہرست تیار کریں گے تا کہ ملک کے دوسرے حصوں میں بھی معذور بھکاریوں کو آنے سے روکا جا سکے‘۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب چند دن پہلے حکومت نے تجویز دی ہے کہ دارالحکومت ڈھاکا سے تمام بھکاریوں کو عالمی کپ کے خاتمے تک فلاحی مراکز میں بھیج دیا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کی جانب سے گداگری ختم کرنے کی کوششوں کے باوجود یہ ملک میں پھیل رہی ہے۔ ڈھاکہ اور چٹاگانگ میں ہر روز سڑکوں کے کنارے، ٹریفک سگنلوں اور تجارتی مراکز کے باہر بھکاریوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔
اس وقت بنگلہ دیش میں بھکاریوں کی تعداد کے کوئی سرکاری اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن اندازوں کے مطابق اس وقت ملک میں سات لاکھ کے قریب گداگر موجود ہیں۔
ان میں سے بہت سارے جسمانی طور پر معذور ہیں۔



















