پاکستانی پر بیوی کے قتل کی فردِ جرم

مزمل اور ان کی اہلیہ
،تصویر کا کیپشنمزمل نے اپنی سینتیس سالہ اہلیہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا
وقت اشاعت

امریکی شہر نیویارک میں ایک پاکستانی نژاد شخص کو اپنی بیوی کو قتل کرنے اور اس کا سر تن سے جدا کرنے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

جیوری نے مسلمانوں کے لیے ٹی وی نیٹ ورک قائم کرنے والے مزمل حسن کو سیکنڈ ڈگری مرڈر کا قصوروار قرار دیا۔ مزمل نے سنہ 2009 میں طلاق کے مطالبہ کے چھ دن بعد اپنی اہلیہ کو قتل کر دیا تھا۔

انہوں نے اپنی سینتیس سالہ اہلیہ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کا یہ قدم اپنی حفاظت کے لیے تھا اور ان کی اہلیہ ان سے برا سلوک کرتی تھیں۔

تین ہفتے تک جاری رہنے والے اس مقدمے میں مزمل نے اپنی وکالت خود کی۔ جرم ثابت ہونے کے بعد انہیں عمر قید ہو سکتی ہے۔

استغاثہ کے مطابق مزمل حسن نے اپنی بیوی سے برا سلوک کیا اور اس پر برجز ٹی وی کے برآمدے میں حملے کا منصوبہ بنایا۔

مزمل نے یہ سیٹلائٹ چینل سنہ 2004 میں قائم کیا تھا اور اس کا مقصد نائن الیون حملوں کے بعد مسلمانوں کے بارے میں پھیلنے والے غلط تصورات کا مقابلہ کرنا تھا۔

انہیں سنہ 2009 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب بہ بفیلو شہر میں تھانے میں پیش ہوئے تھے اور کہا تھا کہ ان کی اہلیہ مر چکی ہیں۔