عراق جنگ، قصوروار میں نہیں: رمزفیلڈ

،تصویر کا ذریعہAP
امریکہ کے سابق وزیرِ دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر مناسب ہم آہنگی کی کمی کی وجہ سے امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد وہاں زیادہ انتشار اور تشدد کو فروغ ملا تھا۔
وہ اپنی آٹھ سو صفحات پر مشتمل یاداشت ’نون اینڈ ان نون‘ کے حوالے سے امریکی چینل اے بی سی سے بات کر رہے تھے۔
سابق وزیرِ دفاع نے کہا کہ انہیں صرف اس بات پر افسوس ہے کہ انہوں نے عراق کی ابوغریب جیل میں زیادتیوں کے سکینڈل کے فوری بعد کیوں استعفیٰ نہیں دیا۔
ڈونلڈ رمزفیلڈ نے چار سال پہلے اس وقت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب عراق میں تشدد عروج پر پہنچ گیا تھا۔
بی بی سی کے واشنگٹن کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے مطابق ان کے ٹی وی انٹرویو سے یہ پیغام ملتا ہے کہ اگر عراق پر حملے کا قصور وار کسی کو ٹھہرانا ہی ہے تو کم از کم وہ اپنے آپ کو وہ شخص نہیں سمجھتے۔
انہوں نے کہا کہ فرانسیسی اور برطانوی خفیہ انٹیلیجنس بھی عراق جنگ سے پہلے کی معلومات کے حوالے سے غلط تھے۔
انہوں نے اپنے سابق ’باس‘ صدر بش سے بظاہر اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں انتشار اور تشدد کی وجہ وائٹ ہاؤس کے اندر ناکافی ہم آہنگی تھی۔ صدر بش نے اپنی یاد داشت میں کہا ہے کہ فوجیوں کی تعداد میں جلدی کمی کرنا سب سے بڑی غلطی تھی۔















