عمروف، نئے چیچن جنگجوکمانڈر

عمرایوف نے ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے
،تصویر کا کیپشنعمرایوف نے ایئرپورٹ پر بم دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے
وقت اشاعت

ڈوکو عمروف چیچنیا کے نئے علیحدگی پسند کمانڈر ہیں جن کا روس میں ہونے والے متعدد خونریز حملوں سے گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے ویڈیو پر ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ چوبیس جنوری کو ماسکو کے ہوائی اڈے اور گزشتہ برس ماسکو کے میٹرو سٹیشنون پر حملے کا حکم انہوں نے ہی دیا تھا ۔ ان واقعات میں پچہتر افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

یقین کیا جاتا ہے کہ نومبر سنہ دو ہزار نو میں ماسکو سے سینٹ پیٹرس برگ جانے والے ٹرین پر حملہ بھی انہیں کی ایماء پر کیا گیا تھا۔ اس واقغے میں چھبیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عمروف روس کے سب سے زیادہ مطلوب جنگجو رہنما ہیں اور وہ خود کو ’ کوہ قاف کا امیر‘ کہتے ہیں۔

مسٹر عمروف کو شمالی کوہ قاف میں اسلامی علیحدگی پسندی کا قائد تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے متعدد حملوں میں شدت پسندوں کی قیادت کی تھی۔ وہ سنہ انیس سو چورانوے سے روس کے خلاف ہونے والی دونوں جنگوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

وہ سنہ انیس سو چھیانوے سے سنہ انیس سو ننانوے کے درمیان چیچنیا کی مختصر آزادی کے دوران سلامتی کے وزیر بھی رہے تھے۔ وہ سنہ دو ہزار دو میں مسلح باغی فوج کی جنوب مغربی کمان کے کمانڈر بنے اور باور کیا جاتا ہے کہ ان کی کمان میں تقریبآ ایک ہزار مسلح باغی شامل ہیں۔

مسٹر عمروف کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جون سنہ دو ہزار چار میں پڑوسی جمہوریہ انگوشیتیا میں ایک حملے کی منصوبہ بندی میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ اس حملے میں انگوشیتیا کے وزیر داخلہ سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

روس کی سکیوریٹی فورسز کا کہنا ہے کہ عمروف نے سنہ دو ہزار چار میں بسلان کے ایک سکول کے محاصرے کی بھی قیادت کی تھی جس میں تین سو زیادہ لوگ مارے گئے تھے ۔ لیکن اس الزام کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

چیچنیا میں ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جبری وصولی کے لیے اغوا کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد ایسے چیچن شہریوں کو ہلاک کیا ہے جو روس کی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔

گزشتہ مارچ میں ویڈیو پر ایک بیان میں مسٹر عمروف نےمیٹرو پر حملے کو چیچنیا میں شہریوں کی ہلاکت کے انتقام کی جائز کارروائی کہا تھا ۔

مسٹر عمروف کو چیچنیا کے باغیوں میں عروج اس وقت حاصل ہوا جب روسی افواج نے ان کے پیش روؤں حلیم سعیداللہ یوف اور اسلان مسخادیوف کو ہلاک کر دیا ۔

اکتوبر سنہ دو ہزار سات میں ایک بیان جاری کیا گیا جس میں انہیں شمالی کوہ قاف کی متعدد جمہوریاؤں پر مشتمل خطے کا نام نہاد امیر قرار دیا گیا ۔

مسٹر عمروف مفربی ممالک کو تمام مسلمانوں کا دشمن قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس خطے میں ’شرعی قانون ` نافذ کریں گے ۔

یہ پہلا موقع ہے جب چیچن جنگجو رہنما نے القاعدہ جیسے تصورات کا اظہار کیا ہے اور اپنی تحریک کو بین اقوامی اسلامی گروپوں سے منسلک کرنے کی کوشش کی ہے ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے چیچنیا کے شدت پسندوں پر غیر چیچن افراد کے بڑھتے ہوئے اثرات اور تحریک کا محور علیحدگی پسندی سے بنیاد پرستی میں تبدیل ہونے کا پتہ جلتا ہے۔

مسٹر عمروف سنہ انیس سو چونسٹھ میں جنوبی چیچنیا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے تھے ۔ انہوں نےمقامی یونیورسٹی سے انجینیرنگ میں ڈگری حاصل کی۔

ان کے دو بھائی عیسٰی اور موسٰی پہلے ہی مارے جا چکے ہیں ۔ ان کے والد کو روسی حکام نے گرفتار کیا تھا تب سے ان کے بارے کچھ معلوم نہیں۔

مسٹر عمروف شادی شدہ ہیں اور ان کے چھ بچے ہیں۔ انہیں روسی افواج نے یر غمال بنا لیا تھا لیکن میڈیا کے دباؤ کے سبب حکام کو انہیں رہا کرنا پڑا تھا۔

چیچنیا کے دیگر جنگجو کمانڈروں کی طرح انہیں بھی روس کی سکیورٹی فورسز کئی بار مردہ قرار دے چکی ہیں ۔