بن لادن کے باورچی کی سزا کم کر دی گئی

امریکی فوج نے اوساما بن لادن کے سابق باورچی اور ڈرائیور کی قید کی سزا میں دو سال کی کمی کر دی ہے۔ سوڈانی نژاد ابراہیم القوسی نے دہشت گردی میں مدد اور سازش کے الزام کو قبول کیا تھا۔
پچاس سالہ سوڈانی القوسی کو2001 میں افغانستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔اب وہ گوانتا نامو بے میں ہیں۔
فوجی کمیشن کے مشیر کا کہنا ہے کہ قوسی نے اپیل کی تمام شرائط کو پورا کیا ہے۔بی بی سی نے فوجی کمیشن کی دستاویز کو دیکھا ہے جس کے مطابق القوسی کو افغانستان میں تورہ بورہ کی پہاڑیوں سے گرفتار کیے جانے کے تقریباً گیارہ سال بعدجولائی 2012 میں رہا کیا جا سکتا ہے۔
گوانتا نامو میں امریکی بحریہ کے ٹھکانے پر فوجی کمیشن کے سامنے القوسی نے اقبالیہ بیان میں یہ تسلیم کیا تھا کہ وہ بن لادن کے باورچی کے طور پر کام کرتے تھے اور انہیں یہ علم تھا کہ القاعدہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔
القوسی نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ بن لادن کے محافظ کے طور پر بھی کام کرتے تھے اور انہوں نے امریکی افواج سے بچنے میں ان کی مدد بھی کی تھی۔
دریں اثناء القوسی کے بزرگ والدین نے فوجی کمیشن کو ایک اپیل میں لکھا ہے کہ ’وہ اس امید پر زندہ ہیں کہ ایک دن ان کا بیٹا واپس ان کے پاس ہوگا‘۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مرنے سے پہلے ایک بار اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتے ہیں۔















