مبارک استعفٰی، لبنان، تیونس میں جشن

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
مصر کے صدر حسنی مبارک کی تیس سال بعد اقتدار سے علیحدگی کا دنیا بھر میں خیرمقدم کیا گیا اور تیونس میں بھنگڑے ڈالے گئے۔
امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو مصر کی تاریخ میں ایک تاریخی دن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ مصر میں تبدیلی دور اثرات کی حامل ہو گی۔
جوہری توانائی کی عالمی ادارے کے سابق صدر اور مصر میں حزبِ اختلاف کی تحریک کے ایک رہنما محمد البرادعی نے صدر حسنی مبارک کے استعفے کو اپنی زندگی کا اہم ترین دن قرار دیا۔ قاہرہ میں ایک بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی سالوں تک جبر و تسلط کے زیرِ اثر رہنے کے بعد ملک آخرکار آزاد ہو گیا ہے۔
مصر میں حزب اختلاف کی تنظیم الاخوان المسلمین نے صدر حسنی مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے اور اپنے وعدے وفا کرنے پر فوج کا شکریہ ادا کیا ہے۔
قطر کی حکومت نے صدر حسنی مبارک کے استعفے کو ایک مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں قطر کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ جمہورت کے قیام اور ملک میں اصلاحات کے لیے مصر کے عوام کی تمناؤں کے حصول کے سلسلے میں ایک مثبت اور اہم قدم ہے۔
تیونس کی گلیوں میں لوگ بھنگڑے ڈال رہے ہیں اور جشن کی کیفیت میں اپنی گاڑیوں کے ہارن بجا رہے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تیونس کے لوگ اس لیے بھی بہت خوش ہیں کیونکہ چار ہفتے پہلے ہی انہوں نے اپنے حکمران زین العابدین بن علی کو زبر دست احتجاج کے بعد اقتدار سے الگ کیا ہے۔
دوسری طرف مصر کے پڑوسی ملک اسرائیل نے امید ظاہر کی ہے کہ صدر حسنی مبارک کے استعفے کے باوجود مصر اور اسرائیل کے پرامن تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے کہا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ان کی اقتدار سے علیحدگی کا دوطرفہ تعلقات پر کیا فرق پڑے گا۔ ’ہمیں امید ہے کہ مصر میں سیاسی تبدیلی تشدد کے بغیر وقوع پذیر ہو گی اور دونوں ملکوں کے درمیان موجود امن معاہدے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔‘
لبنان کی اسلام پسند شعیہ تنظیم حزب اللہ نے صدر حسنی مبارک کے استعفے کو مصری عوام کی ’تاریخی فتح‘ قرار دیا ہے۔ بیروت میں بھی جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جرمن چانسلر ایجلامرکل نے مصر پر زور دیا ہے کہ صدر حسنی مبارک کے استعفے کے باوجود اسرائیل کے ساتھ سن انیس سو اناسی میں ہونے والے امن معاہدے کی پاسداری کرے۔
ترکی کے نائب صدر نے بھی صدر حسنی مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا کہ اس سے عوام کے مطالبات کی روشنی میں ملک میں ایک نیا نظام تشکیل پائے گا۔
درایں اثناء سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ایسے تمام اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے جو اس کی دانست میں صدر حسنی مبارک کی ملکیت ہو سکتے ہیں۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل امر موسیٰ نے بھی صدر حسنی مبارک کے استعفے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے ایک ’سفید انقلاب‘ قرار دیا ہے۔



















