حسنی مبارک کی زندگی پرایک نظر

وقت اشاعت

تصاویر میں حسنی مبارک کی زندگی پرایک نظر

بیاسی برس کے حسنی مبارک تیس برس سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہے۔
،تصویر کا کیپشنبیاسی برس کے حسنی مبارک تیس برس سے زائد عرصے تک اقتدار میں رہے۔
انیس سو اٹھائیس میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیا کے صوبے میں پیدا ہونے والے حسنی مبارک نے اپنی ذاتی زندگی کو عوام الناس سے دور رکھنے پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔ انھوں نے سنہ انیس سو انچاس میں مصر کی فوجی اکیڈمی سے تربیت مکمل کی اور ائر فورس کو جوائن کیا۔
،تصویر کا کیپشنانیس سو اٹھائیس میں قاہرہ کے نزدیک مینوفیا کے صوبے میں پیدا ہونے والے حسنی مبارک نے اپنی ذاتی زندگی کو عوام الناس سے دور رکھنے پر ہمیشہ اصرار کیا ہے۔ انھوں نے سنہ انیس سو انچاس میں مصر کی فوجی اکیڈمی سے تربیت مکمل کی اور ائر فورس کو جوائن کیا۔
ائر فورس کے کمانڈر اور ڈپٹی وزیر دفاع کے طور پر سنہ انیس سو تہتر کی جنگ کی آغاز پر جزیرہ نما سینائی میں اسرائیل پر اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ .
،تصویر کا کیپشنائر فورس کے کمانڈر اور ڈپٹی وزیر دفاع کے طور پر سنہ انیس سو تہتر کی جنگ کی آغاز پر جزیرہ نما سینائی میں اسرائیل پر اچانک حملے کی منصوبہ بندی میں شامل تھے۔ .
وہ صدر انور سادات کے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے کے حوالے سے ہونے مذاکرات میں شامل تھے۔
،تصویر کا کیپشنوہ صدر انور سادات کے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ امن معاہدے کے حوالے سے ہونے مذاکرات میں شامل تھے۔
صدر سادات کو اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اکتوبر سن انیس سو اکیاسی میں محمد حسنی سید مبارک منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔
،تصویر کا کیپشنصدر سادات کو اسلامی جہاد سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے قاہرہ میں ایک فوجی پریڈ کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد اکتوبر سن انیس سو اکیاسی میں محمد حسنی سید مبارک منصب صدارت پر فائز ہوئے تھے۔
اس وقت وہ بہت کم مشہور تھے لیکن انہوں نے صدر سادات کے قتل کی وجہ بننے والے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے استعمال کیا۔
،تصویر کا کیپشناس وقت وہ بہت کم مشہور تھے لیکن انہوں نے صدر سادات کے قتل کی وجہ بننے والے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے استعمال کیا۔
پچھلے تیس برسوں میں حسنی مبارک پر چھ قاتلانہ حملے ہوئے۔ انیس سو پچانوے میں ایتھیوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں تو وہ بالکل بال بال بچے تھے۔
،تصویر کا کیپشنپچھلے تیس برسوں میں حسنی مبارک پر چھ قاتلانہ حملے ہوئے۔ انیس سو پچانوے میں ایتھیوپیا کے دارالحکومت عدیس ابابا میں تو وہ بالکل بال بال بچے تھے۔
صدر مبارک نے اپنے پورے عرصۂ اقتدار میں ملک میں ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کی جس کے تحت شہری آزادیاں سلب کرلی گئی تھیں اور فوج اور سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔
،تصویر کا کیپشنصدر مبارک نے اپنے پورے عرصۂ اقتدار میں ملک میں ہنگامی حالت کے سہارے حکومت کی جس کے تحت شہری آزادیاں سلب کرلی گئی تھیں اور فوج اور سکیورٹی اداروں کو وسیع اختیارات حاصل تھے۔
صدر مبارک کے دوراقتدار میں ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی آئی اور شاید اسی وجہ سے مصریوں نے ان کے بلاشرکت غیرے اقتدار کو قبول کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے وہ جمہوری آزادیوں کے فروغ کے لیے دباؤ میں محسوس ہو رہے تھے۔
،تصویر کا کیپشنصدر مبارک کے دوراقتدار میں ملک میں بظاہر استحکام رہا اور معاشی خوشحالی آئی اور شاید اسی وجہ سے مصریوں نے ان کے بلاشرکت غیرے اقتدار کو قبول کیا تھا تاہم گزشتہ کچھ برسوں سے وہ جمہوری آزادیوں کے فروغ کے لیے دباؤ میں محسوس ہو رہے تھے۔
صدر مبارک نے خود کو مغرب اور امریکہ کا قابل اعتبار اتحادی ثابت کر کے بھی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئی تھی۔
،تصویر کا کیپشنصدر مبارک نے خود کو مغرب اور امریکہ کا قابل اعتبار اتحادی ثابت کر کے بھی اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئی تھی۔
اندرون ملک بڑھتی ہوئی بے چینی، علاقائی سیاست میں ان کی گھٹتی ہوئی اہمیت اور بگڑتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے بعد جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ان کے ہمدردوں اور اتحادیوں کو لازماً یہ فکر لاحق تھی کہ بیاسی برس کے حسنی مبارک کب تک اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں گے۔
،تصویر کا کیپشناندرون ملک بڑھتی ہوئی بے چینی، علاقائی سیاست میں ان کی گھٹتی ہوئی اہمیت اور بگڑتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کے بعد جانشینی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ان کے ہمدردوں اور اتحادیوں کو لازماً یہ فکر لاحق تھی کہ بیاسی برس کے حسنی مبارک کب تک اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھ سکیں گے۔
جمعہ کو مصر کے صدر حسنی مبارک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اقتدار فوج کی اعلیٰ کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ستمبر سے پہلے اقتدار سے الگ نہیں ہو نگے
،تصویر کا کیپشنجمعہ کو مصر کے صدر حسنی مبارک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اقتدار فوج کی اعلیٰ کونسل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ ایک دن پہلے انھوں نے کہا تھا کہ وہ ستمبر سے پہلے اقتدار سے الگ نہیں ہو نگے