قندھار میں حملہ، پندرہ پولیس اہلکار ہلاک

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ جنوبی شہر قندھار میں طالبان جنگجوؤں کے ایک حملے میں پندرہ پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سنیچر کے روز دوپہر کے وقت خود کش بموں، بندوقوں اور راکٹ سے داغے جانے والے گرنیڈوں سے لیس طالبان جنگجوؤں نے شہر کے مرکز میں قائم پولیس ہیڈکوارٹر پر حملے کر دیا۔
دھماکوں سے سارا علاقہ لرز اٹھا اور افغان سکیورٹی فورسز کئی گھنٹوں تک حملہ آوروں کا مقابلہ کرتی رہیں۔ حملے میں کئی درجن افراد زخمی بھی ہوئے۔
قندھار کے گورنر طوریالائی ویسا کے مطابق حملے میں پندرہ افراد ہلاک اور پینتالیس زخمی ہوئے جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد پولیس اہلکار تھے۔
طالبان کے ترجمان یوسف احمدی نے تنطیم کی طرف سے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب ہونے والے دھماکوں میں سے ایک بارود سے بھری کار کے ذریعے کیا گیا جبکہ دو مزید دھماکے خود کش حملے تھے۔
اس کے بعد خود کش جیکٹوں میں ملبوس کئی جنگجوؤں نے پولیس ہیڈکوارٹر کے بالمقابل واقع شادی گھر پر قبضہ کر لیا اور اس کی چھت سے پولیس پر دستی بم پھینکے اور انہیں مشین گن سے فائرنگ سے نشانہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سکیورٹی فورسز کو حالات پر قابو پانے میں کئی گھنٹے لگے اور ابھی تک ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی کہ حملہ آوروں میں سے کوئی زندہ بچ سکا یا نہیں۔
دو روز پہلے افغانستان کے شمالی صوبے قندوز میں ایک خود کش حملے میں سینیئر مقامی اہلکار سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
خود کش بمبار چہار درہ کے گورنر کے دفتر میں گھس گیا اور اس نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے دھماکہ کر دیا۔ ہلاک شدگان میں چار عام شہری بھی شامل تھے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں ایک خود کش بمبار نے اس صوبے کے سابق گورنر کو ہلاک کر دیا تھا۔



















