برلسکونی کے خلاف ساٹھ شہروں میں مظاہرے

اگر وزیرِ اعظم برلسکونی کے خلاف جرم ثابت ہوگیا تو انھیں پندرہ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے
،تصویر کا کیپشناگر وزیرِ اعظم برلسکونی کے خلاف جرم ثابت ہوگیا تو انھیں پندرہ سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے
وقت اشاعت

اٹلی کی ہزاروں خواتین نے ملک کے ساٹھ شہروں اور قصبوں کے علاوہ اٹلی سے باہر بھی وزیرِ اعظم سیلویو برلسکونی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

کچھ خواتین نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا ’اٹلی جسم فروش خواتین کا مرکز نہیں ہے‘۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ مسٹر برلسکونی کے حالیہ جنسی سکینڈلز کی وجہ سے عورتوں کی تحقیر و تذلیل ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم برلسکونی اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے جنسی پارٹیوں میں شرکت کی اور جسم فروش عورتوں سے تعلق رکھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات گھناؤنے ہیں جن کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔

اتوار کو برسلز، میڈرڈ، لزبن، پیرس، لیون اور ٹوکیو میں بھی وزیرِ اعظم برلسکونی کے خلاف چھوٹے چھوٹے مظاہرے کیے گئے۔

گزشتہ ہفتے میلان میں استغاثہ نے یہ کہہ کر وزیرِ اعظم برلسکونی کے خلاف مقدمہ چلانے کی اپیل کی تھی کہ انھوں نے مبینہ طور پر ایک کم عمر کی لڑکی کے ساتھ ’سیکس کیا اور لڑکی کو اس کام کے پیسے دیے‘۔

تاہم وزیرِ اعظم برلسکونی اس الزام سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے مراکش کے نائٹ کلب کی ڈانسر کو سیکس کرنے کے لیے پیسے دیے تھے جس کی عمر اس وقت سترہ برس تھی۔ وہ اس بات سے بھی انکاری ہیں کہ انھیں نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور جب اس لڑکی کو پولیس نے کسی اور سلسلے میں حراست میں لیا تو وزیرِ اعظم نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اسے پولیس کی حراست سے رہا کرایا۔

اب اٹلی میں ایک میجسٹریٹ یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وزیرِ اعظم کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت کافی ہیں یا نہیں۔

اگر وزیرِ اعظم کے خلاف جرم ثابت ہوگیا تو انھیں پندرہ سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

اٹلی میں جسم فروش خواتین کے مراکز میں جانا جرم نہیں ہے لیکن اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی کے ساتھ جنسی فعل پر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ڈنکن کینیڈی کا کہنا ہے کہ اتوار کو ہونے والے مظاہروں میں اٹلی کی ان خواتین کی مایوسی اور بےزاری کا اظہار تھا جو جاننا چاہتی ہیں کہ مزید کیا کیا جائے کہ مسٹر برلسکونی استعفیٰ دینے پر مجبور ہو جائیں۔

روم کی پیٹزا ڈیل پوپولو یا عوامی سکوائر میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین موجود تھیں جن کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے کچھ مرد بھی تھے۔

میلان میں مظاہرے میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ مسٹر برلسکونی کے خلاف الزامات کی وجہ سے خواتین ’باقی دنیا کے لیے ایک مذاق بن گئی ہیں۔‘